صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 41
صحیح مسلم جلد چهارم 41 کتاب صلاة العيدين 1463{9} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ :1463 حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ رسول الله ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر کے دن نکلتے عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضٍ بنِ عَبْدِ اللہ تھے اور نماز سے ابتداء کرتے تھے۔پھر جب اپنی نماز بْنِ سَعْدِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ پڑھ لیتے اور سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے اور رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لوگوں کی طرف توجہ فرماتے اور لوگ اپنی نماز کی جگہ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بیٹھے ہوتے۔پھر اگر آپ کو کسی دستہ یا لشکر کے بھجوانے بالصَّلَاة فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے یا اس عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ کے علاوہ کوئی کام ہوتا اس کا انہیں ارشاد فرماتے اور كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْث ذَكَرَهُ للنَّاس أَوْ آپ فرمایا کرتے صدقہ دو، صدقہ دو، صدقہ دو اور كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا سب سے زیادہ صدقہ عورتیں دیتی تھیں۔پھر آپ وَكَانَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا واپس تشریف لے جاتے تھے ایسا ہی ہوتا رہا یہانتک وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ که مروان بن الحکم (امیر ) ہوا پس میں مروان کے يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلكَ حَتَّى كَانَ ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہوئے نکلا ، یہانتک کہ ہم عید گاہ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُحَاصِرًا پہنچے۔جب ہم عید گاہ پہنچے تو دیکھا کثیر بن الصلت مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا كَثِيرُ بنُ نے مٹی اور اینٹوں سے منبر بنایا تھا مروان اپنا ہاتھ مجھ فَإِذَا سے کھینچنے لگا گویا کہ وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ کر لے الصَّلْت قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِين وَلَينِ فَإِذَا جانے لگا جبکہ میں اسے نماز کی طرف کھینچ رہا تھا۔مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجْرُهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَيْتُ جب میں نے اس سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا ذلكَ مِنْهُ قُلْتُ أَيْنَ الابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةَ فَقَالَ نماز سے ابتداء ( کا طریق) کہاں گیا؟ اس نے کہا نہیں اے ابوسعید! جو تم جانتے ہو وہ ترک کیا جا چکا۔میں نے کہا ہر گز نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ قُلْتَ كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا میں میری جان ہے تم اس سے بہتر نہیں لا سکو گے جو أَعْلَمُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ [2053] میں جانتا ہوں (میں نے ) تین مرتبہ کہا پھر وہ چلا گیا۔