صحیح مسلم (جلد چہارم)

Page 230 of 301

صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 230

صحیح مسلم جلد چهارم 230 [45]46: بَاب إِعْطَاءِ مَنْ يُخَافُ عَلَى إِيْمَانِهِ باب : اس شخص کو عطا کرنا جس کے ایمان (کے ضائع ہونے ) کا ڈر ہو كتاب الزكاة 1738{131} حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِي 1738 : عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد سے الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ حَدَّثَنَا عطا فرمایا۔میں اُن میں بیٹھا ہوا تھا۔وہ کہتے ہیں أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي رسول اللہ اللہ نے ان میں سے ایک شخص کو نظر انداز عَامِرُ بْنُ سَعْدِ عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ أَنَّهُ أَعْطَى فرمایا، اسے نہ دیا اور وہ میرے نزدیک ان میں سے رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنا بہترین تھا۔میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى حاضر ہو کر آہستہ آواز سے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ آپ کا اس کے بارہ میں کیا خیال ہے۔میں بخدا أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى ضرور اس کو مؤمن سمجھتا ہوں۔آپ نے فلاں شخص اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ کو عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں تو اسے مومن سمجھتا اللهِ مَا لَكَ عَنْ فَلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ہوں۔آپ نے فرمایا یا مسلمان! میں پھر تھوڑی دیر قَالَ أَوْ مُسْلِمًا فَسَكَتْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا خاموش رہا، پھر اس کے بارہ میں میرے علم نے مجھے أَعْلَمُ مِنْهُ فَقَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ مجبور کیا تو میں نے عرض کیا آپ کا اس کے بارہ میں فَلَان فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا کیا خیال ہے۔میں اس کو مومن سمجھتا ہوں۔آپ فَسَكَتْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتَ يَا نے فرمایا یا مسلمان! آپ نے فرمایا میں ایک شخص کو رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانِ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ دیتا ہوں جبکہ دوسرا شخص مجھے اس کی نسبت زیادہ پیارا مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ إِنِّي لَأَعْطِي الرَّجُلَ ہوتا ہے۔میں اسے اس ڈر سے دیتا ہوں کہ کہیں وہ۔وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي منہ کے بل آگ میں ہی نہ گرایا جائے۔النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانی ایک اور روایت میں ہے کہ ( سعد بن ابی وقاص نے تَكْرِيرُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری گردن اور )