صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 26 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 26

26 كتاب المساجد و مواضع الصلاة [10]63: بَاب جَوَازِ الْخُطْوَةِ وَالْخُطْوَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں دو ایک قدم اٹھانے کا جواز 44839} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ :839 عبد العزیز بن ابو حازم اپنے والد سے روایت سَعيد كلاهُمَا عَنْ عَبْد الْعَزِيز قَالَ يَحْيَى کرتے ہیں کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد کے پاس أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنْ آئے۔انہوں نے منبر کے بارہ میں آپس میں نَفَرًا جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدِ قَدْ تَمَارَوْا فِي گفتگو کی کہ وہ کس لکڑی کا بنا ہوا ہے۔انہوں (سہل الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي بن سعد نے کہا خدا کی قسم مجھے علم ہے کہ وہ کس لکڑی لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ وَمَنْ عَمِلَهُ وَرَأَيْتُ کا بنا ہوا ہے اور کس نے اسے بنایا ہے اور میں نے تو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ رسول الله علیہ کو دیکھا ہے جب پہلے دن آپ اس جَلَسَ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبّاس پر تشریف فرما ہوئے تھے۔ابو حازم کہتے ہیں میں نے فَحَدِّلْنَا قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ الله صلى الله ان سے کہا اے ابو عباس! پھر ہمیں اس بارہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ إِنَّهُ بتائے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لَيُسَمِّهَا يَوْمَئِذٍ انْظُرِي غُلَامَكَ النَّجَّارَ عورت کو کہلا بھیجا۔ابو حازم کہتے ہیں کہ اس روز يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أَكَلَّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا فَعَمِلَ انہوں نے اس عورت کا نام لیا تھا کہ تم اپنے غلام هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ پڑھتی کو دیکھو کہ وہ میرے لئے لکڑیوں سے منبر بنا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَتْ هَذَا دے جس پر سے میں لوگوں سے کلام کروں۔چنانچہ الْمَوْضِعَ فَهِيَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ اس نے تین سیڑھیوں پر مشتمل ایک منبر بنا دیا۔پھر رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا تو اسے اس جگہ پر فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ رکھا گیا اور یہ مدینہ کے ) جنگل کے جھاؤ سے بنا ہے ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ اور میں نے رسول اللہ میلے کو دیکھا۔آپ اس پر الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ ثُمَّ کھڑے ہوئے۔چنانچہ آپ نے منبر پر تکبیر کہی اور أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لوگوں نے آپ کی اقتداء میں تکبیر کہی۔پھر آپ نے