صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 225
225 كتاب صلاة المسافرين وقصرها [17]125 : بَاب صَلَاةِ اللَّيْلِ وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في اللَّيْلِ وَأن الوثرَ رَكْعَةً وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةً صَحِيحَةً صلى الله باب رات کی نماز اور رات میں نبی ﷺ کی رکعات کی تعدا د اور یہ کہ وتر ایک رکعت ہے اور یہ کہ ایک رکعت درست نماز ہے 1207{121) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ :1207 : حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ قَرَأْتُ عَلَى مَالك عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ رسول الله وہ رات کو گیارہ رکعت پڑھتے اور ان میں عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى الله سے ایک رکعت) سے وتر کر لیتے۔جب اس سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى فارغ ہو جاتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ یہانتک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا تو آپ دو ہلکی مِنْهَا اصْطَجَعَ عَلَى شِقّهِ الْأَيْمَن حَتَّى يَأْتِيَهُ رکعتیں پڑھتے۔الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ [1717] 1208 {122] و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى :1208 : نبی ﷺ کی زوجہ مطہر و حضرت عائشہ سے حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبِ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺہ عشاء کی الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَاب عَنْ عُرْوَةَ بْنِ نماز جسے لوگ عتمہ“ کہتے ہیں سے فجر تک گیارہ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ رکعت پڑھتے اور ہر دو رکعتوں کے بعد آپ سلام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ الله صَلَّی پھیرتے اور ایک رکعت سے وتر کر لیتے۔پھر جب اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہوتا اور فجر آپ پر منْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ خوب واضح ہو جاتی اور مؤذن آپ کے پاس آتا تو الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً آپ کھڑے ہوتے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے اور پھر يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے یہانتک کہ مؤذن سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ اقامت کے لئے آپ کے پاس آتا۔الْفَجْرُ وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ دوسری روایت جو ابن شہاب سے اسی سند سے مروی