صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 209
209 كتاب صلاة المسافرين وقصرها خَالِدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي آٹھ رکعت ایک کپڑے میں پڑھیں جس کے دونوں مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ عَنْ أُمِّ هَانِي أَنَّ رَسُولَ کنارے آپ نے مخالف سمت میں ڈالے ہوئے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهَا تھے۔عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبِ وَاحد مَيْمُون قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ [1670] 841173) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بْنُ مُحَمَّد بْن :1173 : حضرت ابو ذر روایت کرتے ہیں کہ أَسْمَاءَ الصُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِي وَهُوَ ابْنُ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر حَدَّثَنَا وَاصِلْ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ ہر صبح صدقہ ہے۔پس ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر تحمید يَحْيَى بْنِ عُقَيْلِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي صدقہ ہے اور ہر تہلیل صدقہ ہے اور ہر تکبیر صدقہ الْأَسْوَدِ الدُّوَليُّ عَنْ أَبِي ذَرِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی ہے۔نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور نا پسندیدہ بات اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سے روکنا صدقہ ہے اور جو چاشت کی دو رکعت سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ پڑھ لے وہ ان سے کفایت کر جائیں گی۔صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَة صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٌ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَة صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْي عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى [1671] 1174{85) حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ حَدَّثَنَا :1174 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے وہ کہتے عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنِي أَبُو ہیں کہ میرے پیارے دوست نے مجھے تین عُثْمَانَ النَّهْدِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ باتوں کی نصیحت فرمائی۔ہر ماہ تین دن کے روزے أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رکھنے کی ، دورکعت نماز چاشت پڑھنے کی اور یہ کہ میں بِثَلَاثٍ بِصِيَامٍ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں۔وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ و ابو رافع الصائغ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ