صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 159
نَجِّ۔عَيَّاسَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيُّ إِلَى قَوْلِهِ كَسَنِي يُوسُفَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ [1543,1542] 159 كتاب المساجد و مواضع الصلاة 2961076) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :1076: ابو سلمہ بن عبد الرحمان بیان کرتے ہیں حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو کہتے سنا بخدا میں يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ رسول الله علی کی نماز ( کا انداز ) تم لوگوں کے عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قریب کر دوں گا۔حضرت ابو ہریرۃ ظہر اور عشاء کی وَالله لَأَقَرُبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُول الله صَلَّى نماز اور صبح کی نماز میں قنوت کرتے تھے مومنوں کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ في لئے دعا کرتے اور کفار پر لعنت کرتے۔الظُّهْرِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ [1544] 1077 (297) وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ :1077 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے وہ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ عَنْ إِسْحَقَ بن عبد الله کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ قَالَ دَعَا خلاف جنہوں نے بئر معونہ والوں کو قتل کیا تھا۔تمہیں رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى (دن) صبح دعا کی۔آپ رعل و ذکوان ولحیان اور الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بشر مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ عُصیہ جنہوں نے اللہ، اس کے رسول کی نافرمانی کی، صَبَاحًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَلِحْيَانَ کے خلاف دعا کرتے رہے۔حضرت انس کہتے ہیں کہ وَعُصَيَّةَ عَصَت اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنَسٌ الله عز وجل نے ان لوگوں کے بارہ میں جو بئر معونہ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بیٹر میں شہید کئے گئے تھے۔کچھ قرآن اتارا جسے ہم نے مَعُونَةَ قُرْآنَا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِحَ بَعْدُ أَنْ بَلَغُوا پڑھا یہانتک کہ بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا کہ ہماری قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا قوم تک پیغام پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کر لی وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی ہیں۔عَنْهُ [1545] لفظ قرآن سے مراد وہ وحی بھی ہو سکتی ہے جس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تھی۔