صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 115
115 كتاب المساجد و مواضع الصلاة قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ تک رسول اللہ ﷺ گھر سے باہر تشریف نہ ( زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لائے یہانتک کہ حضرت عمر بن الخطاب نے کہا کہ أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔چنانچہ رسول اللہ علی لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي باہر تشریف لائے اور آپ نے اہل مسجد سے ان تُدْعَى الْعَتَمَةَ فَلَمْ يَخْرُجُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی کے پاس آنے کے بعد فرمایا کہ اس وقت تمہارے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ علاوہ اہلِ زمین میں کوئی (نماز) کا انتظار نہیں کر الْخَطَّابِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصَّبْيَانُ فَخَرَجَ رہا اور یہ بات لوگوں میں اسلام پھیلنے سے قبل کی رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ہے۔حرملہ نے اپنی روایت میں مزید کہا ہے کہ ابنِ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ مَا شہاب کہتے ہیں کہ میرے پاس بیان کیا گیا ہے کہ يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ۔رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لئے مناسب صلى الله وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ زَادَ نہیں ہے کہ تم رسول اللہ سے نماز پڑھانے ) حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَذُكِرَ کے لئے اصرار کرو اور یہ اس وقت کی بات ہے لي أَنّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب حضرت عمر بن خطاب نے (نماز کے لئے ) قَالَ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ الله پکارا تھا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةَ وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَ حَدَّثَنِي رسول صلى الله عَبْدُ الْمَلك بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبي عَنْ جَدِّي عَنْ عُقَيْل عَن ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ وَذُكرَ لِي وَمَا بَعْدَهُ [1444,1443] 1001{219} حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :1001 حضرت عائشہ سے روایت ہے انہوں نے كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّد بن فرمایا کہ ایک رات نبی ﷺ نے عشاء کی نماز تاخیر وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ بَكْرِح قَالَ و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سے پڑھی یہانتک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا اور