صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 74 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 74

74 كتاب الحيض [7]41 بَابِ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا عورت کی منی نکلے تو اس پر غسل واجب ہے 460 {29} و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ 460: اسحاق بن ابی طلحہ نے کہا مجھے حضرت انس بن حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا مالک نے بتایا۔کہتے ہیں کہ اسحاق کی دادی حضرت عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ قَالَ إِسْحَقُ بْنُ أَبِي ام سليم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں۔انہوں نے طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكَ قَالَ جَاءَتْ أُمُّ اس وقت جبکہ حضرت عائشہ آپ کے پاس تھیں سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! عورت وہ دیکھتی ہے جو مرد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ وَعَائِشَةَ دیکھتا ہے اور اپنے آپ میں وہ دیکھتی ہے جو مرد اپنے عِنْدَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى آپ میں سوتے ہوئے دیکھتا ہے۔حضرت عائشہ الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى نے فرمایا کہ اے ام سلیم ! اللہ تیرا بھلا کرے، تو نے الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ عورتوں کو شرمندہ کر دیا۔حضور نے حضرت عائشہ سے فَضَحْتِ النِّسَاءَ تَربَتْ يَمِينُكَ فَقَالَ فرمایا بلکہ تم نے اللہ تیرا بھلا کرے ہاں اے ام سلیم ! لعَائِشَةَ بَلْ أَنْتِ فَتَرَبَتْ يَمينُكَ نَعَمْ اگر ایسا دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ غسل کرے۔فَلْتَعْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَاكِ [709] 461 {30} حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا 461 حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ بن مالک نے انہیں بتایا حضرت ام سلیم نے بیان کیا أَنَسَ بْنَ مَالِكَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ کہ انہوں نے نبی ﷺ سے اس عورت کے بارہ میں أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سوال کیا جو اپنی نیند میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے۔عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ رسول الله اللہ نے فرمایا کہ جب عورت یہ دیکھے تو فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسے چاہیے کہ وہ نسل کرے۔حضرت ام سلیم " رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَعْتَسِلْ فَقَالَتْ أُمُّ ہیں ہم میں اس سے جھجک گئی۔انہوں نے کہا کیا ایسا مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فقرات حضرت ام سلمہ کے ہیں نہ کہ حضرت ام سلیم کے۔