صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 227 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 227

حیح مسلم جلد دوم 227 كتاب الصلاة شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ أَنْ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ لَمَّا دیکھا ہے لیکن ان کی نماز تو ایسی نہیں تھی۔شعبہ نے ظَهَرَ عَلَى الْكُوفَةِ أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ أَنْ يُصَلِّيَ ہمیں حکم سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ مطر بن بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ [1059,1058] ناجیہ جب کوفہ پر غالب ہوا تو اس نے ابوعبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور آگے پوری حدیث۔بیان کی۔718 (195) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ :718: حضرت انس سے روایت ہے وہ بیان کرتے حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدِ عَنْ ثَابِتِ عَنْ أَنَسِ ہیں کہ جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو میں نماز قَالَ إِنِّي لَا آلُو أَنْ أَصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ پڑھاتے دیکھا ہے تمہیں نماز پڑھاتے وقت میں اس رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي میں کوئی کمی نہیں کرتا وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک چیز بِنَا قَالَ فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ حضرت انسؓ کرتے تھے میں تم لوگوں کو کرتے نہیں تَصْنَعُونَهُ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ دیکھتا۔آپ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے التَصَبَ قَائِمًا حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ کھڑے رہتے یہانتک کہ کہنے والا کہتا کہ آپ بھول وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ منَ السَّجْدَة مَكَثَ حَتَّی گئے ہیں اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے يَقُولُ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ [1060] یہانتک کہ کہنے والا کہتا کہ آپ بھول گئے ہیں۔719{196) و حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعِ 719: حضرت انس سے روایت ہے وہ بیان کرتے الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ہیں کہ میں نے حضرت رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ مختصر اور مکمل نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔رسول اللہ أَوْجَزَ صَلَاةٌ منْ صَلَاة رَسُول الله صَلَّى ﷺ کی نماز متوازن تھی اور (اس کے ارکان) اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَام كَانَتْ صَلَاةُ قريب قريب ( برابر) تھے۔اور حضرت ابوبکر کی نماز رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً بھی متوازن تھی لیکن حضرت عمر بن خطاب فجر کی نماز وَكَانَتْ صَلَاةً أَبِي بَكْرٍ مُتَقَارِبَةً فَلَمَّا كَانَ لمبی پڑھاتے تھے اور رسول اللہ کہ جب سمع صلى الله الله سَمِعَ حمد بخاری کی روایت ہے کہ قیام اور قعدہ کے علاوہ باقی ارکان قریبا برابر ہوتے تھے۔( بخاری کتاب الاذان باب اتمام الركوع والاعتدال فيه والطمانيه رقم الحديث (750)