صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 153 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 153

حیح مسلم جلد دوم 153 كتاب الصلاة 598{51} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ 598 : عبدہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ي كلمات جہڑا پڑھتے تھے سُبْحَانَكَ اللهُمَّ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ أَن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ يَقُولُ إِلَهَ غُيُرُكَ : یعنی اے اللہ تو پاک ہے۔اپنی تعریف سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ کے ساتھ ، بہت برکت والا ہے تیرا نام اور بہت بلند وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّهُ نہیں۔حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ نبی ﷺ کے پیچھے اور حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ حضرت عثمانؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ (سب) الْعَالَمِينَ لَا يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ سے نماز کی ابتداء کیا الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَاءَةِ وَلَا فِي آخِرِهَا کرتے تھے اور سورہ فاتحہ سے پہلے یا بعد بسم اللہ {52} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا (جزا) نہیں پڑھتے تھے۔الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنسَ بْنَ مَالِكِ يَذْكُرُ ذَلكَ 893,8921] 1414 : بَابِ حُجَّةِ مَنْ قَالَ الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَة سَوَى بَرَاءَةٌ اس کی وکیل جس کی رائے ہے کہ بسم اللہ سوائے سورۃ توبہ کے ہر سورۃ کی پہلی آیت ہے 599{33} حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ السَّعْدِيُّ :599 حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا الْمُحْتَارُ بْنُ ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔اس دوران قُلْقُلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو میں آپ پر ہلکی سی ربودگی طاری ہوئی۔پھر آپ نے بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ تبسم فرماتے ہوئے اپنا سر اٹھایا۔ہم نے عرض کیا کہ مُسْهِرٍ عَنِ الْمُخْتَارِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَا يا رسول اللہ ! آپ کس بات پر مسکرائے؟ آپ نے