صحیح مسلم (جلد دوم)

Page 134 of 303

صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 134

134 [6]6: بَاب الْإِمْسَاكِ عَنِ الْإِغَارَةِ عَلَى قَوْمٍ فِي دَارِ الْكُفْرِ إِذَا سُمِعَ فِيهِمُ الْأَذَانُ دار الکفر میں جب کسی قوم سے اذان کی آواز سنی جائے تو اس پر حملہ سے رک جانا * كتاب الصلاة 567 {9} وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْب حَدَّثَنَا :567 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں وہ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر طلوع ہو جاتی تو حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْن مَالك قَالَ كَانَ حملہ کرتے تھے اور آپ اذان سننے کی طرف توجہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ إِذَا فرماتے۔اگر آپ اذان سن لیتے تو حملہ کرنے سے طَلَعَ الْفَجْرُ وَكَانَ يَسْتَمِعُ الْأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔ایک مرتبہ آپ نے کسی أَذَانَا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ کو کہتے ہوئے سنا کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّی سے بڑا ہے۔تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فطرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْفِطْرَةِ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ پر۔پھر اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔تب رسول اللہ ﷺ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتَ نے فرمایا کہ تو آگ سے نکل گیا۔پھر انہوں نے مِنَ النَّارِ فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزَى دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔[847] حمید اس سے جارحانہ حملہ مراد نہیں بلکہ دفاع مراد ہے۔اہل مکہ اور ان کے حامی و حلیف قبائل کی جارحیت در اصل کفرو اسلام کے مابین واضح اعلانِ جنگ تھا۔اس کے باوجود مسلمانوں کو ہدایت تھی کہ اپنے سفروں اور مہمات میں یہ احتیاط پیش نظر رکھیں کہ کسی غیر جارح قبیلہ پر حملہ نہ ہو۔اور مسلمان جہاں اسلامی شعار دیکھیں مثلاً اذان سنیں تو حملہ سے باز رہیں۔