صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 125
125 كتاب الحيض [29]63: بَاب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ اس بات کی دلیل کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا ح 548 {۔۔۔} حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْب حَدَّثَنَا :548 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ قَالَ حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا کسی رستہ میں نبی نے ان کو ملے جبکہ وہ (ابو ہریرہ ) و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ جنبی تھے۔حضرت ابو ہریرہ چپکے سے چلے گئے اور حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ حُمَيْدِ جا کر غسل کیا۔نبی ﷺ کو وہ نظر نہ آئے۔پھر جب وہ الطُّويل قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْد اللَّه عَنْ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے پوچھا اے ابو ہریرہ ! أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ تم کہاں تھے؟ حضرت ابو ہریرہ کہنے لگے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيق مِنْ طُرُق يا رسول اللہ! آپ مجھے اس حال میں ملے کہ میں جنبی الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبْ فَالسَلْ فَذَهَبَ تھا۔میں نے پسند نہ کیا کہ آپ کے ساتھ بیٹھوں جب فَاغْتَسَلَ فَتَفَقَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تک که غسل نہ کرلوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ أَيْنَ كُنتَ يَا أَبا سبحان اللہ ! مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔هُرَيْرَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبْ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ [824] 549 {116} وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 549: حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ جنبی ہونے وَأَبُو كُرَيْب قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِشْعَرِ عَنْ کی حالت میں ان کی رسول اللہ علیہ سے ملاقات وَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ ہوئی تو وہ ایک طرف ہو گئے اور غسل کیا اور آپ کی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُب خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں جنبی تھا۔فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ كُنتُ جُنُبا آپ نے فرمایا کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ [825]