صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 105
105 كتاب الحيض 512) 82) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ مُعَاذ :512: ہم سے ابو العلاء بن شِخِیر نے بیان کیا کہ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا رسول الله ﷺ کی بعض حدیث بعض کو منسوخ کرتی أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشَّخَيرِ قَالَ كَانَ رَسُولُ ہے جس طرح قرآن کا بعض حصہ بعض حصہ کو منسوخ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسَخُ حَدِيثُهُ کرتا ہے۔بَعْضُهُ بَعْضًا كَمَا يَنْسَحُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا [1777 513 (83) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ :513 حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ {83} حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ رسول الله اللہ انصار میں سے ایک شخص کے (گھر بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کے پاس سے گزرے۔آپ نے اس کو بلا بھیجا۔وہ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ ذَكْوَانَ باہر آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ تھے۔آپ نے فرمایا کہ شاید ہم نے تمہیں جلدی میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ ڈال دیا۔اس نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ نے فرمایا کہ جب تو عجلت میں پڑ جائے یا تمہیں فَقَالَ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ الله انزال نہ ہو تو تم پر غسل نہیں ہے اور تم پر وضوء ہے۔قَالَ إِذَا أَعْجَلْتَ أَوْ أَقْحَطَّتَ فَلَا غُسَلَ ابن بشار نے اِذَا أُعْجِلْتَ یا اُقْحِطْتَ کہا ہے۔عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ وَ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ [778] 514 {84} حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ :514 حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ح و رسول الله عے سے اس آدمی کے بارہ میں پوچھا جو حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَاللَّفْظُ بیوی سے تعلق قائم کرے پھر کمزور پڑ جائے۔آپ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ نے فرمایا کہ وہ اسے دھو ڈالے جو اسے بیوی سے لگا ضروری نوٹ : قرآن مجید میں حقیقتا کوئی نسخ نہیں ہے۔صرف یہ مراد ہے کہ قرآن مجید کی ایک آیت کے معنوں میں اگر کسی کو اشتباہ پیدا ہو تو دوسری آیات اس کی خوب وضاحت کر دیتی ہیں اس بات کو اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ الْقُرْآنُ يُفَسِرُ بَعْضُهُ بَعْضًا۔یہ بھی مد نظر ر ہے کہ مذکورہ بالا قول حدیث نبوئی نہیں ہے بلکہ ابو العلاء بن شخیر کا قول ہے جو صحابی نہیں تھے۔