صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 86 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 86

صحیح مسلم جلد اول 86 كتاب الإيمان 130 {۔۔۔} حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ :130: حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں نبی ہے کے بْنُ حَرَاشِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ پاس آیا جبکہ آپ سوئے ہوئے تھے اور آپ کے اوپر الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ سفید کپڑا تھا۔میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ الْمُعَلِّمُ عَن ابْن بُرَيْدَةَ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ سوئے ہوئے تھے۔پھر میں آپ کے پاس آیا آپ حَدَّثَهُ أَنْ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ أَنْ أَبَا ذَرِّ بیدار ہو چکے تھے۔میں آپ کے پاس بیٹھ گیا تو آپ حَدَّثَهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے فرمایا: جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کہے اور پھر اسی پر وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ اس کی موت آجائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔میں فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ نے کہا: اگر چہ اس نے زنا کیا ہو اور اس نے چوری کی فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدِ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا ہو؟ آپ نے فرمایا: خواہ اس نے زنا کیا ہو اور اس اللهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ نے چوری کی ہو۔میں نے کہا خواہ اس نے زنا کیا ہو قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنی اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا خواہ اس نے زنا کیا وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ ہو اور چوری کی ہو، تین بار اور چوتھی دفعہ فرمایا اگر چہ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ ابوذر کی ناک کو مٹی لگے۔اس کے بعد ابوذ رباہر نکلے عَلَى رَغْمِ أَلْفِ أَبِي ذَرِّ قَالَ فَخَرَجَ أَبُو ذَر اور یہ کہ رہے تھے وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِى ذَر “ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ (اگر چہ ابوذر کی ناک کو مٹی لگے )۔[41]40: بَاب تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لا الہ الا اللہ کہہ دینے کے بعد کا فر کو قتل کرنے کا حرام ہونا 131 (95) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعيد حَدَّثَنَا :13:1 حضرت مقداد بن اسود سے روایت ہے کہ لَيْثُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ وَاللَّفْظُ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کا کیا ارشاد ہے اگر مُتَقَارِبٌ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ میری کفار میں سے کسی آدمی سے مٹھ بھیڑ ہو جائے عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْنِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ اور وہ مجھ سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ پر عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ تلوار مارے اور اسے کاٹ ڈالے اور پھر مجھ سے بچنے