صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 2 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 2

صحیح مسلم جلد اول 2 كتاب الايمان ہیں حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ فَقُلْنَا لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے ان کو درمیان أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں کر لیا۔ہم میں سے ایک ان کے دائیں اور ایک وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَر ان کے بائیں ہو گیا۔مجھے خیال تھا کہ میرا ساتھی مجھے فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ گفتگو کرنے کا موقع دے گا۔میں نے کہا اے ابو دَاخِلًا الْمَسْجِدَ فَاكْتَفْتُهُ أَنَا وَصَاحبي عبدالرحمان ! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ نکلے أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم کا کھوج لگاتے ہیں۔( یحیی فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ ابن يعمر نے ان کی حالت کا ذکر کیا ) اور یہ کہ وہ کہتے فَقُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور ہر کام بغیر جبر از خود ہورہا نَاسُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ ہے۔آپ نے کہا کہ جب تم ایسے لوگوں سے ملو تو وَذَكَرَ مِنْ شَأْنهمْ وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا انہیں بتا دو کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے قَدَرَ وَأَنَّ الْأَمْرَ أَنفَ قَالَ فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ بَری ہیں اور قسم ہے اس ذات کی جس کی عبد اللہ بن عمر فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ بُرَاءُ مِنِّي قسم کھاتا ہے کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنْ اُحد ( پہاڑ ) جتنا سونا ہو اور وہ اسے خرچ کرے تو بھی لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحَدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبلَ اللَّهُ الله اسے قبول نہ کرے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ مِنْهُ أَ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَي أَبي لائے۔پھر آپ نے کہا کہ میرے والد حضرت عمر بن عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ خطاب نے مجھے بتایا کہ ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہمارے پاس ایک بہت يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ سفید کپڑوں میں ملبوس بہت سیاہ بالوں والا آدمی آیا، الشَّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ نہ تو اس پر کوئی سفر کے آثار نظر آتے تھے ، نہ ہی اُسے السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى ہم میں سے کوئی جانتا تھا یہانتک کہ وہ نبی ﷺ کی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ طرف رُخ کر کے بیٹھ گیا۔اس نے اپنے دونوں گھٹنے إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْه آپ یہ کے دونوں گھٹنوں سے لگا دیئے اور اپنے وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ دونوں ہاتھ دونوں رانوں پر رکھے اور پھر کہا کہ اے