صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 1
صحیح مسلم جلد اول الله 1 الله الحالي كِتَاب الإيمان کتاب: ایمان کے بارہ میں کتاب الایمان [1]1: بَابِ بَيَانِ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ وَالْإِحْسَانِ وَوُجُوبِ الْإِيمَانِ بِاثْبَاتِ قَدَرِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَبَيَانِ الدَّلِيلِ عَلَى التَّبَرِّي مِمَّنْ لَا يُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ وَإِغْلَاطِ الْقَوْلِ فِي حَقِّهِ قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِعَوْنِ اللَّهِ نَبْتَدِئُ وَإِيَّاهُ نَسْتَكْفِي وَمَا تَوْفِيقُنَا إِلَّا بِاللَّهَ جَلَّ جَلَالُهُ باب: ایمان ، اسلام اور احسان کا بیان اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان لانا واجب ہے اور اور پر اس دلیل کا بیان کہ جو تقدیر پر ایمان نہیں لاتا اس سے بیزاری اور اس کے حق میں سخت بات کہنا۔ابوالحسین مسلم بن حجاج قشیری نے کہا ہے ہم اللہ کی مدد سے ہی شروع کرتے ہیں اور اسی سے کفایت طلب کرتے ہیں اور ہمیں کوئی توفیق نہیں سوائے اس کے جو اللہ جل جلالہ ہمیں عطاء کرے۔1 {8} حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ 1: يحي بن يعمر سے روایت ہے کہ سب سے پہلے بصرہ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ كَهْمَس عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ میں جس نے تقدیر کے بارہ میں گفتگو کی وہ معبد چمنی بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْن يَعْمَرَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ تھا۔میں اور حمید بن عبدالرحمان حمیری دونوں حج یا بن مُعَاذِ الْعَنْبَرِيُّ وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا عمرہ کے لئے نکلے تو ہم نے کہا کہ کاش ہمیں أَبِي حَدَّثَنَا كَهْمَسَ عَن ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ رسول الله علیہ کے صحابہ میں سے کوئی ملے تو ہم اس بْنِ يَعْمَرَ قَالَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي سے اس بارہ میں سوال کریں جو یہ لوگ تقدیر کے بارہ الْقَدَر بِالْبَصْرَة مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ فَانْطَلَقْتُ أَنا میں کہتے ہیں تو ہمیں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے مسجد وَحُمَيْدُ بْنُ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ میں داخل ہوتے ہوئے ملاقات کا موقع مل گیا۔