صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 69
صحیح مسلم جلد اول 69 69 كتاب الايمان ـهُ يَقُولُ أَيُّمَا عَبْد أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ واپس آ جائے۔منصور نے کہا کہ اللہ کی قسم یہ روایت حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ قَالَ مَنْصُورٌ قَدْ نبی ﷺ سے کی گئی ہے لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ مجھے وَاللَّهِ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے یہ روایت یہاں بصرہ میں کی جائے۔وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُرْوَى عَنِّي هَهُنَا بِالْبَصْرَة 94 {69} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 94: حضرت جریر سے روایت ہے کہ رسول اللہ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ دَاوُدَ عَن ﷺ نے فرمایا کہ جو غلام بھی بھاگ گیا اس کے بارہ۔الشَّعْبِيِّ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله میں ذمہ داری نہ رہی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْمَا عَبْدِ أَبَقَ فَقَدْ بَرثَتْ مِنْهُ الدِّمَّةُ 95 (70) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا :95 شعبی سے روایت ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ كَانَ نبی ﷺ سے روایت بیان کرتے تھے کہ آپ نے جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى فرمایا کہ جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ نہیں ہوتی۔لَهُ صَلَاةٌ [32]31 باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطَرْنَا بِالنَّوْءِ باب : اس کے کفر کا بیان جس نے کہا کہ ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی 96 (71) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ :96: حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ قَرَأْتُ عَلَى مَالِك عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ زَيْدِ پڑھائی رات ہونے والی بارش کے بعد جب آپ بن خالد الْجُهَنِيِّ قَالَ صَلَّى بَنَا رَسُولُ الله ( نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ یعنی نظام اسلامی پر اس کی حفاظت اور تحفظ حقوق کی ذمہ داری خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔