صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 52
صحیح مسلم جلد اول 52 كتاب الايمان مُحَمَّد أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے کچھ حواری ہوتے ہیں جو الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ اس کی ہدایت سے ہدایت پاتے اور اس کی سنت الْفُضَيْلِ الْعَطْمِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ پر چلتے ہیں۔بقیہ روایت صالح کی روایت کی طرح بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ہے لیکن اس میں حضرت ابن مسعودؓ کے آنے اور عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى حضرت ابن عمر کے ساتھ ملاقات کا ذکر نہیں ہے۔بن اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ نَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يَهْتَدُونَ بهَدْيهِ وَيَسْتَتُونَ بِسُنَّتِه مِثْلَ حَدِيثِ صَالِحٍ وَلَمْ يَذْكُرْ قُدُومَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَاجْتِمَاعِ ابْنِ عُمَرَ مَعَهُ 211]22: بَاب تَفَاضُلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فِيهِ وَرُجْحَانٍ أَهْلِ الْيَمَن فِيهِ اہلِ ایمان کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور اس میں اہلِ یمن کی ترجیح کا باب 64 (51) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :64: حضرت ابو مسعود کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرِ ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا سنو ! ایمان حَدَّثَنَا أَبي ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا یہاں ہے اور شدت اور سخت دلی اُن ہانکنے والوں ابْنُ إِدْرِيسَ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي میں ہے جو اونٹوں کی ڈموں کے پاس ہیں جدھر سے خالد ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبیب الْحَارِثِيُّ شیطان کے سینگ طلوع ہوتے ہیں یعنی ربیعہ اور وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ مصر قبائل میں۔سَمِعْتُ قَيْسًا يَرْوِي عَنْ أَبِي مَسْعُود قَالَ أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَن فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْإِيمَانَ هَهُنَا وَإِنَّ شیطان کے سینگ طلوع ہونے سے مراد ان فتنوں کا ظہور ہے جو مشرق سے ظاہر ہونے والے تھے۔