صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 42
صحیح مسلم جلد اول 42 كتاب الايمان عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنِ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ہے۔حضرت عمران نے کہا کہ میں تجھے رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْحَيَاءُ لَا ﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم مجھے اپنے صحیفوں يَأْتِي إِلَّا بِخَيْر فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبُ إِنَّهُ میں سے سناتے ہو۔مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةَ أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا وَمِنْهُ سَكِينَةً فَقَالَ عَمْرَانُ أَحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولٍ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّتُنِي عَنْ صُحفك 46 {۔۔۔} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ الْحَارِثِيُّ 46 حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ ہم اپنے کچھ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدِ عَنْ إِسْحَقَ وَهُوَ ابْنُ لوگوں کے ساتھ حضرت عمران بن حصین کے پاس سُوَيْدٍ أَنْ أَبَا قَتَادَةَ حَدَّثَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ موجود تھے اور ہم میں بشیر بن کعب بھی تھے۔اس دن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ فِي رَهْطٍ وَفِينَا بُشَيْرُ ہمیں حضرت عمران نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بْنُ كَعْب فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَوْمَئِذٍ قَالَ قَالَ فرمایا حیا سراسر خیر ہے یا فرمایا حیا ساری کی ساری خیر رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَيَاءُ ہے۔اس پر بشیر بن کعب نے کہا ہم بعض کتب میں یا خَيْرٌ كُلُّهُ قَالَ أَوْ قَالَ الْحَيَاءُ كُلَّهُ خَيْرٌ فَقَالَ حکمت کے کلام میں لکھا پاتے ہیں کہ اس سے سکینت بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِنَّا لَتَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ اور اللہ کے لئے وقار پیدا ہوتا ہے مگر اس سے کمزوری أَوِ الْحِكْمَةِ أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةَ وَوَقَارًا لِلَّهِ وَمِنْهُ بھی ہوتی ہے۔راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمران ضَعْفٌ قَالَ فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَنَا ناراض ہوئے اور ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔عَيْنَاهُ وَقَالَ أَلَا أَرَى أَحَدِّثُكَ عَنْ رَسُول انہوں نے فرمایا خبردار ! میں دیکھتا ہوں کہ میں الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُ فيه ؟ تمہیں رسول اللہ علیہ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم قَالَ فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَعَادَ اس کے مقابل پر بات کر رہے رہو۔یہ کہہ کر حضرت بُشَيْرٌ فَغَضِبَ عِمْرَانُ قَالَ فَمَا زِلْنَا نَقُولُ عمران نے حدیث دہرائی تو بشیر نے پھر وہی بات فِيه إِنَّهُ مِنَّا يَا أَبَا نُجَيْدِ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ حَدَّثَنَا دہرائی۔اس پر حضرت عمران کو پھر غصہ آ گیا تو ہم إِسْحَقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ حَدَّثَنَا أَبُو سب اس کے بارہ میں کہتے رہے کہ اے ابو جید ! یہ ہم