صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 234 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 234

حیح مسلم جلد اول 234 كتاب الإيمان 283 {۔۔۔} و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :283 حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی ﷺ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ نے فرمایا میں جنت کے لئے سب سے پہلا شفیع الْمُحْتَارِ بْنِ قُلْفُل قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكِ ہوں کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری کی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ گئی ہے اور نبیوں میں سے ایک ایسا نبی بھی ہے اس شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّق نَبِيٍّ مِنَ الْأَنْبِيَاء کی امت میں سے سوائے ایک شخص کے کسی نے مَا صُدَّقْتُ وَإِنْ مِنَ الْأَنْبِيَاء نَبِيًّا مَا يُصَدِّقُهُ تصدیق نہیں کی۔مِنْ أُمَّتِهِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ 284 {197} وحَدَّثَنِي عَمْرُو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ :284 حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ بْنُ حَرْب قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میں جنت کے سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِت عَنْ أَنس بن دروازے کے پاس آؤں گا اور اس کو کھلوانا چاہوں گا مَالك قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تو داروغہ کہے گا آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا محمد۔وہ وَسَلَّمَ آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ کہے گا آپ ہی کے لئے مجھے حکم دیا گیا تھا کہ میں فَيَقُولُ الْخَازِنُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ آپ سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں۔نہ فَيَقُولُ بِكَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ [86]85: بَاب احْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لأُمَّتِهِ نبی ﷺ کا اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا کو محفوظ رکھنا رض 285 {198} حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ :285 حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ علی الْأَعْلَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ قَالَ نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک خاص دعا ہوتی ہے أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ جو دعا وہ کرتا ہے ( اور وہ قبول ہوتی ہے )۔میں ارادہ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رکھتا ہوں کہ میں اپنی ( یہ ) دعا قیامت کے دن اپنی أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ امت کی شفاعت کے لئے محفوظ رکھوں۔لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا فَأُرِيدُ أَنْ أَحْتَبِيَ