صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 182 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 182

صحیح مسلم جلد اول 182 كتاب الايمان نماز سے فارغ ہوا تو کسی کہنے والے نے کہا اے محمد ! یہ مالک ہے جو آگ کا داروغہ ہے۔اس کو سلام کرو۔میں نے اس کی طرف توجہ کی تو اس نے مجھے پہلے سلام کیا۔[76] 75 : بَاب فِي ذِكْرِ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى سِدْرَةُ الْمُنْتَهى كا ذكر 1 244 {173} و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي :244 حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ جب شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ رسول الله علیہ کو رات کو لے جایا گیا تو آپ کو مِعْوَل ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ سدرة المنتھی تک لے جایا گیا، جو چھٹے آسمان پر حَرْبِ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ہے۔جو چیز زمین سے بلند کی جاتی ہے وہ اس تک وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي پہنچتی ہے اور وہاں روک لی جاتی ہے۔جو اس کے حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِي اوپر سے اترتی ہے وہ اس تک پہنچتی ہے اور وہاں عَنْ طَلْحَةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ لَمَّا روک لی جاتی ہے۔( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اذُ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى ﴾ (النجم:17) (ترجمه) انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَهِيَ فِي جب بیری کو اس نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا السَّمَاءِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ به “ ( راوی نے ) کہا سونے کے پروانوں نے ڈھانپا۔نے)۔مِنَ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي ما راوی نے کہا کہ رسول اللہ علیہ کو تین چیزیں دی يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقَهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ إِذْ گئیں۔يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى قَالَ فَرَاضٌ مَنْن 1۔آپ کو پانچ نمازیں دی گئیں۔ذَهَب قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ 2 سورۃ البقرہ کی آخری آیات دی گئیں۔1 سدرة المنتھیٰ سے اس حد کی طرف اشارہ ہے جو بشریت کے عروج کی آخری حد ہے۔2: معلوم ہوتا ہے کہ ” جو چھٹے آسمان پر ہے“ سے ”سونے کے پروانے، پتنگے“ تک کی عبارت راوی کی اپنی عبارت ہے۔