صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 135 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 135

صحیح مسلم جلد اول 135 كتاب الايمان 196 {۔۔۔} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا 196 : حسن کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ بن سیار کے پاس گئے اور وہ بیمار تھے انہوں نے ان کا دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقَلِ بْنِ حال پوچھا تو انہوں نے کہا میں تمہیں ایک ایسی حدیث يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعْ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُكَ سناتا ہوں جو میں تمہیں سنانے والا نہیں تھا۔رسول اللہ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتَكَهُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ نے فرمایا اللہ جب کسی بندے کو رعایا کانگران صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتَرْعِي اللهُ بناتا ہے اور وہ اس حال میں مرجاتا ہے کہ وہ اپنی رعایا عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاسٌ کو دھوکہ دے رہا ہو تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا لَهَا إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ قَالَ أَلَّا كُنتَ ہے۔انہوں نے پوچھا آپ نے مجھے آج سے پہلے حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ یہ (حدیث) کیوں نہ سنائی ؟ انہوں نے کہا میں نے لَمْ أَكُنْ لَأُحَدَّثَكَ وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ تجھے نہیں سنائی یا میں تجھے نہیں سنانے والا تھا۔حضرت زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِ عَنْ حسن کہتے ہیں کہ ہم حضرت معقل بن یسار کی عیادت زَائِدَةَ عَنْ هِشَامٍ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ كُنَّا عِنْدَ کے لئے ان کے پاس موجود تھے تو عبید اللہ بن زیاد مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ تَعُودُهُ فَجَاءَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ آیا۔حضرت معقل نے اسے کہا میں تمہیں ایک زِيَادِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلْ إِنِّي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے۔پھر راوی نے وہ حدیث بیان کی جو (مذکورہ بالا ) وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا دونوں راویوں کی روایت کے مطابق ہے۔197 {۔۔۔} وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمُسْمَعِيُّ 197: ابویح سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد نے وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حضرت معقل بن بیار کی بیماری میں ان کی عیادت کی قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا تو حضرت معقل نے اس سے کہا میں تمہیں ایک مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حديث سناتا ہوں اگر میں مرنے والا نہ ہوتا تو میں عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ أَنْ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ تمہیں یہ نہ سناتا۔میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِل ہوئے سنا ہے جو امیر مسلمانوں کے امور کا والی بنتاً إِنِّي مُحَدِّثُكَ بحَدِيث لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ ہے اور پھر ان کے لئے جدو جہد نہیں کرتا اور نہ ہی خیر