صحیح مسلم (جلد اوّل)

Page 133 of 300

صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 133

صحیح مسلم جلد اول 133 كتاب الايمان 621]61 : بَاب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ قَصَدَ أَخْذَ مَالَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ حَقٌّ كَانَ الْقَاصِدُ مُهْدَرَ الدَّمِ فِي حَقِّهِ وَإِنْ قُتِلَ كَانَ فِي النَّارِ وَأَنَّ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ اس بات کی دلیل کہ جس نے بغیر حق کے کسی غیر کا مال ہتھیانے کا قصد کیا تو قصد کرنے والے کا قصاص کا حق جاتا رہے گا۔اگر وہ قتل ہوا تو جہنم میں جائے گا اور یہ کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے 193 {140} حَدَّثَنِي أَبُو كَرَيْب مُحَمَّدُ :193: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخلَد ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْن عَبْدَ يا رسول اللہ ! فرمائیے اگر کوئی شخص آئے اور میرا مال الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ لینا چاہے تو آپ نے فرمایا: تم اس کو اپنا مال نہ دو۔رَجُلٌ إِلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس نے کہا: فرمائیے اگر وہ مجھ سے لڑے تو فرمایا تم وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ الله أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ بھی اس سے لڑو۔اس نے کہا: فرمائیے اگر وہ مجھے قتل رَجُلٌ يُرِيدُ أَحْدَ مَالِي قَالَ فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ کردے؟ فرمایا: تم شہید ہوگے۔اس نے کہا : اگر قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي قَالَ قَاتِلُهُ قَالَ أَرَأَيْتَ میں اس کو قتل کر دوں ؟ فرمایا: پھر وہ جہنمی ہوگا۔إِنْ قَتَلَنِي قَالَ فَأَنْتَ شَهِيدٌ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ قَالَ هُوَ فِي النَّارِ 194 {141} حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ 194: عمرو بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام ثابت الْحُلْوَانِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سے روایت ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عمر و اور رَافِعٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ إِسْحَق أَخْبَرَنَا عنبر بن ابی سفیان کے درمیان تنازعہ ہوا اور لوگ وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا لڑنے کے لئے تیار ہو گئے تو خالد بن العاص سوار ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ہو کر عبد الله بن عمرو کے پاس گئے اور خالد نے ان کو أَنَّ ثَابِتَا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ نصیحت کی۔اس پر حضرت عبد اللہ بن عمرو نے کہا: کیا