سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 470
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 438 اور برائی کا صحیح ادراک رکھنے والا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ کی ذمہ داری دوسروں کی نسبت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ آپ نے نہ صرف اپنے آپ کو سنبھالنا ہے بلکہ نئی نسلوں کی بھی صحیح تربیت کرنی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب آپ اپنی عملی اصلاح کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے سامنے نیک نمونے قائم کرنے والے ہوں گے۔ اس زمانہ میں جبکہ ہر طرف فتنہ و فساد، بے راہ روی اور گمراہی پھیلی ہوئی ہے، ایسے میں ہمیں اپنے تقوی اور اخلاقی معیاروں کو بہتر بنانے کی بھر پور کوشش کرنی ہو گی اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے اور روحانی بلندیوں کو حاصل کرنے کے جہاد کی طرف توجہ پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کسی دنیاوی امید یا اجر کا خیال نہیں آنا چاہیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کسی دنیاوی امید یا اجر کا خیال نہیں آنا چاہیے بلکہ اپنے وجود کو بکلی اس کی راہ میں وقف کر دینا چاہیے۔ یہی حقیقی اسلام اور مومن کا معیار ہے۔ پس اجتماع کے اس مبارک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ سب مل کر قرب الہی کے اس مقدس سفر کی منزلیں طے کرنے کا پختہ عزم کریں۔ اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔ دینی علم میں اضافہ کریں اور اپنے گھروں میں بھی اور باہر کے معاشرے میں بھی اعلیٰ نمونے قائم کرنے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئیوں کے مطابق آخری زمانہ میں قائم ہونے والے نظام خلافت کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی اخلاقی اور معاشرتی برائی سے بچنے کی کوشش کریں اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کا مضبوط عہد باندھیں۔ دنیا کے عارضی مفادات کو اللہ کی رضا پر قربان کرنا سیکھیں۔ ہے۔ اللہ اگر چہ یہ راہ آسان نہیں لیکن اس پر استقامت اور ثبات سے چلنا ہر مومن کا فرض اللہ تعالیٰ کرے کہ جماعت کا ہر فرد قرب الہی کا حقیقی طالب ہو اور اس کے نور سے منور ہو کر دنیا میں امن و سلامتی کی فضاء قائم کرنے والا بنے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اجتماع کو بھی ہر لحاظ سے