سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 451
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 419 ہوں گے اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ ، لٹریچر کے ساتھ ساتھ ہم یہ تصور اپنے علاقے ، اپنے ماحول میں پیدا کر دیں گے تو ایک سے دس آدمی جو ہمارے قریبی ہوں گے ، وہ خود ہی کہنے والے ہوں گے کہ اسلام کی تعلیم احمدی دے رہے ہیں اور یہ اکثر جگہ پر ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ جماعت احمد یہ جس طرح اسلام کا پیغام پہنچاتی ہے اور اس کی تعلیم کے بارے میں بتاتی ہے وہ تصور بالکل اس سے مختلف ہے جو عامۃ المسلمین ہمیں پیش کرتے ہیں یا شدت پسند علماء پیش کرتے ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم کوشش کرتے رہیں اس لئے ہمارا کام یہ ہے کہ ہم کوشش کرتے رہیں۔ ایک دم میں تو دنیا کو ہم نہیں بدل سکتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کا غلبے کا وعدہ ہے۔ عرب دنیا میں بہت وسیع علاقے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا لیکن اس وقت بھی سارے مسلمان تو نہیں ہوئے۔ پھر خلافت راشدہ کے دوران، پھر باقی جو دوسری خلافت شروع ہوئی اس کے دوران، پھر آہستہ آہستہ پیغام دنیا میں پہنچا۔ لیکن آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں سے دوگنی ہے، اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اسلام غلط مذہب ہے یا اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ دنیا مسلمان ہو۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میں نے تمہیں کھلی آزادی دے دی ہے ،conscience دے دیا ہے۔ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری لگا دی کہ تمہارا کام تبلیغ کرنا ہے، پیغام پہنچانا ہے، تم پہنچاتے چلے جاؤ اور ساتھ دعا بھی کرو۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گا اور جب وقت آئے گا تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہو گا۔ breakthrough اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اسی لئے بھیجا ہے کہ آپ کے ذریعہ سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہو ، احیائے اسلام ، احیائے دین کا دور ہو۔ لٹریچر اور مختلف میڈیا کے ذریعہ سے لوگوں کو اسلام کی تعلیم کا بتایا جائے۔ ہم ہر ایک تک تو نہیں پہنچ سکتے، فرانس میں تو احمدیوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے، جیسا کہ میں نے کہا، تو جو مختلف ذرائع