سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 361 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 361

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 329 قرآن کریم میں حضرت زکریا کے حوالے سے سورۃ الانبیاء میں اس دعا کا بھی ذکر ملتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَ انْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ (الانبياء :90) کہ اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب وار نہ و سب وارثوں سے بہتر ہے۔ اس دعا میں بھی جب اللہ تعالیٰ کو خَيْرُ الْوَارِثِينَ کہا ہے تو واضح ہے کہ اولاد کی دعا صرف اس لئے نہیں کہ اولاد ہو جائے اور وارث پیدا ہو جائیں جو دنیاوی معاملات کے وارث ہوں بلکہ ایسے وارث اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوں جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہوں اور ظاہر ہے ایسی دعا وہی لوگ مانگ سکتے ہیں جو خود بھی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہیں۔ اگر دنیا داری میں انسان ڈوبا ہوا ہے تو نیک وارث کس طرح مانگے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دو پس خود نیک بنو اور اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لئے سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو“۔ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 109۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پس اولاد کے لئے دعا اور خواہش اس سوچ کے ساتھ اور اس دعا کے ساتھ ہونی چاہیے کہ ایسی اولاد ہو جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی ہو۔ جو ہماری یعنی ماں باپ کی اور خاندان کی عزت قائم کرنے والی ہو۔ اپنے دادا پڑدادا کے نام کی عزت قائم کرنے والی ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ کی نصرت انہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔“ فرمایا: ”ایک جگہ ٹھہر نہیں جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔“ 66 اور انجام بخیر کے لئے آپ نے فرمایا کہ : ” اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے مستقل دعا کرتے رہنا چاہیے۔“ دو