سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 321

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 289 ہم تبلیغ صرف اپنی تعداد بڑھانے کے لئے نہیں کرتے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ دیکھیں، ہم تبلیغ صرف اپنی تعداد بڑھانے کے لئے نہیں کرتے، کسی کو اسلام احمدیت قبول کرنے کی دعوت دینے کا کیا فائدہ، اگر اس میں اپنی اصلاح کی قوت ارادہ ہی نہ ہو ؟ اسلام اور دین ہے کیا؟ دین آپ سے یہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی اصلاح کریں، اللہ کے سامنے جھکیں اور اس کے حقوق ادا کریں۔ اس کے علاوہ آپ کے بعض اخلاقی فرائض بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں۔ تو آپ ان سے کہہ دیں کہ یہ اسلام کی تعلیمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ نے اپنی زندگی کی حفاظت کرنی ہے تو صرف یہ سوچ کر نہیں کرنی کہ یہی دنیاوی زندگی ہی (ایک) زندگی ہے، آپ کو ایک اور زندگی کا سامنا کرنا ہو گا جو کہ ابدی زندگی ہے۔ وہاں آپ اپنے تمام اعمال کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ اگر آپ نے اچھے کام کئے ہیں تو جزا ملے گی اور اگر برے کام کئے ہیں تو سزا ملے گی۔ یوں آپ کو اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ یہ زندگی ابدی زندگی نہیں ہے اور آپ کو ہمیشہ آنے والی زندگی کو اپنے سامنے رکھنا ہو گا جو کہ حیات بعد الموت ہے۔ اور وہاں آپ کو اپنے اعمال کے لئے جو ابدہ ہونا پڑے گا۔ اگر وہ اس بات کو سمجھ لیں تو انہیں اسلام احمدیت ضرور قبول کر لینی چاہیے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر اسلام احمدیت میں محض لوگوں کا اضافہ کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے اور وہ کسی کام کے نہیں۔ ورنہ وہ آپ کے نظام کو ہی خراب کر دیں گے۔ جو وہ چاہیں گے وہی کریں گے۔ وہ clubs اور casinos میں جائیں گے۔ شراب پئیں گے اور زنا کریں گے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے گناہ ہیں جو ان کے نزدیک غیر اخلاقی نہیں ہیں اور ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن شریعت اور اسلام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان تمام برائیوں کو چھوڑنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا ضابطہ اخلاق، انسانوں کے بنائے ہوئے اخلاقی ضوابط سے الگ ہے۔ آپ ان کو بتا دیں کہ انہیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ ایک اور زندگی ہے جو موت کے بعد ملے گی، جو ابدی زندگی ہے۔ اگر وہ اس بات کو سمجھ لیں تو ٹھیک ہے ورنہ تعداد بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٹھیک ہے ؟