سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 319
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 287 سکھا دیتے ہیں۔ ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے ربَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ( الفرقان : 75) یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرمادے اور یہ تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عبادالرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہرشے پر مقدم کرنے والے ہوں اور آگے کھول کر کہہ دیا کہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِما ما اولاد اگر نیک اور متقی ہو تو یہ ان کا امام ہی ہو گا۔ اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 309 تا 312) خلافت کی مکمل اطاعت کی روح پیدا کریں پس نیک نمونہ ، اولاد کی نیک تربیت اور ان کے لئے دعا کو اپنا روزمرہ معمول بنالیں۔ پھر یہ بھی ہمیشہ یادرکھیں کہ انصار اللہ کا ایک بہت بڑا کام جیسا کہ آپ کے عہد میں بھی ہے ، خلافت کی حفاظت کرنا ہے۔ دعائیں کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے فرائض کی مکمل ادائیگی کرتے ہوئے اپنے اور اپنے بیوی بچوں میں خلافت کی مکمل اطاعت کی روح پیدا کریں۔ اس جذبے کو بڑھائیں، سطحی نظر سے نہ دیکھیں کہ مومنین کی جماعت سے انعام کا وعدہ ہے۔ ان الفاظ پر غور کریں کہ کن سے خلافت کا وعدہ ہے۔ اپنے معیار ایسے بلند کریں جو ایک حقیقی مومن کے ہونے چاہئیں تاکہ آپ بھی انہی لوگوں کی صف میں شامل رہیں جن سے اس انعام کا وعدہ ہے۔ اپنے بچوں کو مسجدوں کے ساتھ ، نماز سنٹروں کے ساتھ جوڑیں، انہیں دین کا علم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔ قرآن کریم پڑھنے کی طرف توجہ دلائیں۔