سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 197

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 165 جس طرح شعبہ مال کام کرتا ہے اس طرح شعبہ تربیت بھی کام کرے نماز میں عاملہ نمونہ بنے تو بہت ترقی ہو سکتی ہے بیت الفتوح ایسٹ کے صدر صاحب سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا که نماز با جماعت کی حاضری میں کیا ترقی ہوئی ہے ؟ ان کا جواب سن کر فرمایا با قاعدہ حاضری رکھا کریں۔ پھر فرمایا: ماریشس جماعت کے امیر صاحب نے بتایا کہ مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو تین ماہ کے دوران نماز باجماعت میں باقاعدہ نہ ہو جائیں انہیں مجلس عاملہ سے فارغ کر دیا جائے۔ فرمایا مجلس عاملہ کے اراکین کو تو فعال ہونا چاہیے۔ اگر عاملہ کا نمونہ اچھا نہیں ہو گا تو دوسروں کا کیا حال ہو گا۔ فرمایا نماز ایسی شے ہے جو خدا نے فرض کی ہے کسی انسان نے نہیں کی۔ اس لئے اس میں نمونہ بنیں ۔ بیت الفتوح ساؤتھ کے صدر صاحب سے نماز با جماعت کی حاضری کے متعلق دریافت فرمایا۔ پھر اُن کا جواب سن کر فرمایا کم از کم فجر اور عشاء با جماعت میں با قاعدہ ہونا چاہیے۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو فجر اور عشاء پر نہیں آتے ان میں منافقت پائی جاتی ہے۔ عہدیداروں کو خاص طور پر توجہ کرنی چاہیے۔ فرمایا: چند دن پہلے امیر صاحب جرمنی ملاقات کے لئے آئے۔ انہوں نے کہا حضرت خلیفة المسیح الرابع فرماتے تھے جس طرح شعبہ مال کا کام ہوتا ہے اسی طرح شعبہ تبلیغ بھی کام کرے تو بہت ترقی ہو سکتی ہے۔ فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ جس طرح شعبہ مال کام کرتا ہے اس طرح شعبہ تربیت بھی کام کرے تو بہت ترقی ہو سکتی ہے۔ نماز با جماعت کی عادت پیدا کرنی چاہیے پھر فرمایا: چندوں کے لئے کم از کم تین ماہ میں خاص زور لگا کر کام کیا جاتا ہے۔ ایک ماہ عام