سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 168
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 136 حکمت، عقل اور بے دلیل باتوں سے اسلام کو اس قدر بد نام کر دیا ہے کہ غیر مسلم دنیا سمجھتی ہے کہ اسلام حکمت سے عاری اور دلائل سے عاری مذہب ہے اور بے عقلوں اور بیون در بیوقوفوں کا مذہب ہے۔ نعوذ باللہ۔ اور صرف شدت پسندی ہی اس کی تعلیم ہے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق تبلیغ کرنی اور تبلیغی رابطے کرنے ہر احمدی کی ایک بہت اہم ذمہ داری ہے۔ پس اس اہمیت کو سب سے پہلے تو ہر سطح کے عہدیداروں کو سمجھنا چاہیے۔ ۔۔۔ بهر حال مستقل تبلیغ کے لئے یہ ہدایات جو ہیں تبلیغ کے شعبہ کی طرف سے ان کو جانی چاہئیں اور لٹریچر مہیا ہونا چاہیے اور پھر اس پر عمل درآمد ہو اور اس طرز پر باتیں ہونی چاہئیں جو حکمت کے معنوں میں بتائی گئی ہیں۔ ان میں عہدیداروں کو بھی شامل ہونا چاہیے اور پرانے رہنے والوں کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ صرف اسائلم سیکرز کے لئے میں نے کہہ دیا تو وہی شامل ہوں۔ داعیانِ خصوصی کو بھی صرف نام کے داعیانِ خصوصی بن کر نہیں بلکہ زیادہ وقت دے کر تبلیغ کے اس میدان میں اب آنا چاہیے۔ دنیا کے جو حالات ہیں ان میں اب ہمیں کھل کر سب کو بتانا ہو گا کہ یہ حالات تمہارے دنیا داری میں ڈوبنے کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس لئے ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف آؤ اور سچے دین کی تلاش کرو۔ موعظة الحسنہ کا جو تبلیغ کا حکم ہے وہ حکمت سے تبلیغ کے معنوں میں بھی آگیا۔ یعنی نرمی اور دل پر اثر کرنے والے انداز میں تبلیغ کی جائے۔ مخالفت تو تبلیغ کے رستے کھولتی ہے ۔۔۔ پس اگر یہ لوگ جو دنیا دار ہیں اور جن کا دین بھی اپنی اصلی حالت میں قائم نہیں ہے اپنے دنیاوی معاملات کو دین کے لئے قربان کر رہے ہیں اور مداہنت نہیں دکھاتے، بزدلی نہیں دکھاتے تو پھر ہم جو آخری اور ہمیشہ قائم رہنے والی شریعت کو ماننے والے ہیں، ہمیں کس قدر مضبوط ایمان ہونا چاہیے اور اپنے دنیاوی تعلقات میں اور تبلیغ کے تعلقات میں بھی حکمت کے ساتھ اور ٹھوس دلائل کے ساتھ ان باتوں کو رد کرنا چاہیے۔ نہ ہی اپنے دنیاوی مفادات کے لئے ان چیزوں سے ڈرنا چاہیے۔ نہ ہی اس لئے ان کی ہاں میں ہاں ملانی چاہیے کہ ان سے رابطے ختم ہو