سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 156

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 124 چینی پیدا نہ ہو۔ اگر کوئی زیادتی کی بات ہے تو اپنے نیشنل امیر ، صدر کو بتائیں یا مرکز میں بتائیں۔ مجھے بھی لکھ سکتے ہیں۔ ۔۔۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ : بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے۔“ یہ جہاں عہدیداروں اور خاص طور پر صدران اور امراء کے افراد جماعت کے ساتھ تعلق میں ضروری چیز ہے وہاں صدر جماعت اور مربی کے تعلق کے لئے بھی بڑا ضروری ہے۔ نیکی اور تقویٰ کے ساتھ ایک دوسرے سے برتاؤ کی وجہ سے افراد جماعت کے سامنے نیک نمونے قائم ہوں گے جو افراد جماعت کی علمی اور روحانی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض دفعہ جہاں ذرا سا بھی صدر یا عہدیداران یا مربیان کے تعلقات میں کمی ہے یا کوئی ہلکا سا بھی شکوہ آپس میں پیدا ہوا ہے تو وہاں شیطان اندر گھسنے کی کوشش کرتا ہے اور نیکی اور تقویٰ کی جڑیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔ کچھ مربی کے ہمدرد بن کر اسے کہتے ہیں کہ تمہارے ساتھ صدر جماعت نے اچھا سلوک نہیں کیا اور کچھ لوگ صدر جماعت کو کہتے ہیں کہ مربی کو یہ رویہ نہیں اپنا نا چاہیے تھا۔ جن لوگوں کی اصلاح صدر جماعت اور مربی کا کام تھا ان میں سے ہی بعض صدر اور مربی کے درمیان خلیج اور دوری پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجہ لوگوں میں پھر بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ اکٹھے ہو جاؤ، ایک بن جاؤ تا کہ طاقت پیدا ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں۔ فرمایا ایسا ہر گز نہیں چاہیے بلکہ اجماع میں چاہیے کہ قوت آ جاوے۔“ اکٹھے ہو جاؤ۔ ایک بن جاؤ تا کہ طاقت پیدا ہو۔ اس میں قوت پیدا کرو اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں ۔ 66