سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 144

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 112 جماعت احمدیہ میں اطاعت کا معیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے عمومی طور پر انتظامات بھی اچھے ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس ہر شعبہ کی پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے لوگ نہیں ہیں جو مختلف شعبہ جات میں کام کر کے اس کے بہتر معیار پیدا کر سکیں۔ رضا کار ہیں، والنٹیئر ز ہیں، خدام میں سے بھی، اطفال میں سے بھی، انصار میں سے بھی، لجنہ اور ناصرات میں سے بھی۔ افسر بھی ان میں سے مقرر ہوتے ہیں، ماتحت بھی مقرر ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے کم پڑھا لکھا افسر مقرر کر دیا جاتا ہے تو چاہے کوئی ڈاکٹر ہو، انجنیئر ہو ، پی۔ ایچ۔ ڈی ہو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ کوئی یہ فرق نہیں ہوتا کہ میری تعلیم اعلیٰ یا میر ارتبہ اعلیٰ ہے۔ یہ اطاعت کا معیار جماعت احمد یہ میں ہم دیکھتے ہیں۔ اور ہر طرح سے پھر تعاون بھی کرتے ہیں۔ نہ صرف تعاون بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا پوری اطاعت کرتے ہیں اور اطاعت کرتے ہوئے اپنے جو بھی فرائض ہیں ، ڈیوٹی ہے ، خدمت ہے اس کو سر انجام دیتے ہیں۔ اپنی روحانی حالت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو بڑھائیں ۔۔۔ پس یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے جو وہ کر رہا ہے اور جماعت کا تعارف پھیل رہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات ہماری توجہ بھی اس طرف پھیرتی ہے کہ ہم انہی باتوں پر خوش نہ ہو جائیں بلکہ اپنی روحانی حالت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو بڑھائیں۔ ہر اس بات کو برا سمجھیں جسے اللہ تعالیٰ نے برا کہا ہے اور ہر اس بات پر عمل کریں جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ خدمت کا موقع دے رہا ہے تو اسے فضل الہی جانیں اور تمام عہدیداران بھی اور خدمت کرنے والے بھی اپنے فرائض کو تقویٰ پر چلتے ہوئے انجام دینے کی کوشش کریں۔“ (خطبہ جمعہ فرموده 14 اکتوبر 2016ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 4 نومبر 2016ء صفحہ 5-8)