سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 125

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 93 دوسروں سے زیادہ بڑھ کر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کرے اور یاد رکھے کہ یہ عہد اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے عہدوں کو پورا کرنے کا کئی جگہ قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔ پس ہمیشہ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے یہ بڑا واضح فرمایا ہے کہ تمہارے سپرد کی گئی امانتیں جن کو تم قبول کرتے ہو تمہارے عہد ہیں پس اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کو پورا کرو۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول کے سچے اور تقویٰ پر چلنے والوں کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ( البقرة: 178) یعنی اپنے عہد کو جب کوئی عہد کر لیں پورا کرنے والے ہیں۔ اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھاتے ہوئے اپنے کام سر انجام دیں پس یہ خاص طور پر اُن لوگوں کا ایک بنیادی امتیاز ہونا چاہیے جو جماعتی کاموں کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہتے ہوئے اور اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھاتے ہوئے اپنے کام سر انجام دیں۔ اگر ان کے سچائی کے معیار میں ذرا سا بھی جھول ہے ، کمی ہے ، اگر ان کے تقویٰ کے معیار ایک عام فرد جماعت کے لئے نمونہ نہیں تو وہ اپنے عہد ، اپنے عہدے، اپنی امانت کے حق کو ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔ پس امراء، صدران سب سے پہلے اپنی عاملہ کے سامنے بھی اور افراد جماعت کے سامنے بھی اپنے نمونے قائم کریں۔ سیکر ٹریان تربیت ہیں جن کے سپر د تربیت کا کام ہے اور تربیت کا کام اسی وقت صحیح رنگ میں ہو سکتا ہے جب نمونے قائم ہوں۔ جو کام کرنے والا ہے، جس کی ذمہ داری ہے، دوسروں کو نصیحت کرنے والا ہے تو خود بھی ان کاموں پر عمل کرنے والا ہو۔ پس سیکر ٹریان تربیت بھی افراد جماعت کے سامنے اپنے نمونے قائم کریں کہ جماعت کی تربیت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ پر میں کئی موقعوں پر ذکر کر چکا ہوں کہ اگر شعبہ تربیت فعال ہو جائے تو بہت سے دوسرے سرے شعبوں کے کام خود بخود ہو جاتے ہیں۔ جتنا افرادِ جماعت کی تربیت کا معیار اونچا ہو گا اتنا ہی دوسرے