سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 124

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 92 اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کو پورا کرو کچھ عرصہ پہلے میں ایک خطبہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ یہ جماعتی عہدیداران کے انتخاب کا سال ہے۔ اب اکثر جگہوں پر انتخاب ہو چکے ہیں ملکوں میں بھی اور مقامی جماعتوں میں بھی اور نئے عہدیداروں نے اپنا کام سنبھال لیا ہے۔ عُہدیداروں میں بعض جگہوں پر بعض امراء، صدران اور دوسرے عہدیدار نئے منتخب ہوئے ہیں لیکن بہت سی جگہوں پر پہلے سے کام کرنے والوں کا ہی دوبارہ انتخاب کیا گیا ہے۔ نئے آنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا جہاں شکر ادا کرنا چاہیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کے لئے چنا وہاں عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس امانت کا حق ادا کرنے کی توفیق دے جو اُن کے سپرد کی گئی ہے۔ اسی طرح جو عہدیدار دوبارہ منتخب ہوئے ہیں وہ بھی جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ خدمت کی توفیق دی وہاں اللہ تعالیٰ سے یہ عاجزانہ دعا بھی مانگیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ان امانتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور گزشتہ عرصہ خدمت کے دوران ان سے جو کو تاہیاں، سستیاں اور غفلتیں ہو گئیں جس کی وجہ سے ان کے سپرد کی گئی امانتوں کا حق ادا نہیں کیا گیا یا حق ادا نہیں ہو سکا اللہ تعالیٰ ایک تو اس سے صرفِ نظر فرمائے اور پھر اپنا فضل فرماتے ہوئے اس نے آئندہ تین سال کے لئے جو دوبارہ خدمت کا موقع عطا فرمایا ہے اور جو امانتیں اس کے سپرد کی ہیں ان میں آئندہ ستیاں اور کو تاہیاں اور غفلتیں نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ ان امانتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جماعتی خدمت کو کوئی معمولی خدمت نہیں سمجھنا چاہیے۔ سرسری طور پر نہیں لینا چاہیے۔ ہم میں سے ہر ایک نے چاہے وہ عہدیدار ہے یا ایک عام احمد ی ہے اس نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے گا اور جب ایک شخص دین کی خدمت یا بحیثیت عہدیدار کسی خدمت کے کرنے کو قبول کرتا ہے یا اس خدمت پر مامور کیا جاتا ہے تو اس پر