سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 118

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 86 خود بھی براہ راست ہر کام میں نگرانی رکھیں ”اب یہاں انتخابات کی بات ہو گئی، عہدیداروں کی بات ہو گئی۔ بعض لوگ جھگڑے پیدا کرتے ہیں کہ فلاں کیوں امام الصلوۃ بن گیا ہم اس کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھیں گے۔ فلاں پریذیڈنٹ کیوں بن گیا۔ فلاں کیوں نہ بنا۔ فلاں سیکر ٹری کیوں بن گیا۔ فلاں کیوں نہ ہوا۔ یا جب تک فلاں شخص امام نہ بنے ہم فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے ۔(ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 16 271-270 صفحہ یہ باتیں صرف سننے کے لئے نہیں ہیں۔ شاید بعضوں کا خیال ہو کہ حضرت مصلح موعود کے زمانے میں شاید ایسے لوگ تھے اور اب ایسے نہیں ہیں۔ اب بھی ایسی شکایتیں ملتی رہتی ہیں۔ اس زمانے میں تو صحابہ بھی تھے جو ایسے ٹیڑھے لوگوں کی اصلاح بھی کر دیا کرتے تھے۔ لیکن ہم جو جو نبوت کے زمانے سے دُور جا رہے ہیں اور آئندہ مزید دور جاتے رہیں گے اس زمانے میں ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ پہلے بھی اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ ہمیں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ ہمیں پہلے سے زیادہ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کس طرح عبد اللہ بننے کا حق ادا کرنا ہے اور اپنی ضد اور انانیت چھوڑنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ انتخابات کے موقع پر بھی ایسے سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ اگر بعض دفعہ بعض حالات میں جب اکثریت ووٹ کے خلاف فیصلہ دیا جائے تو اس قسم کے سوال لوگ لکھتے رہتے ہیں۔ یہ سال بھی انتخابات کا سال ہے۔ جماعتی لحاظ سے اس سال میں انتخاب ہونے ہیں۔ اس لحاظ سے بھی ہر ایک کو کو اپنی سوچوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے کہ دعا کے بعد ہر تعلق کو اور ہر رشتے کو چھوڑ کر اپنا حق جو ہے وہ صحیح استعمال کریں، اپنی رائے دیں اور اس کے بعد جو فیصلہ ہو جائے اس کو قبول کر لیں۔ مکمل طور پر اپنی ذاتیات سے بالا ہو کر اپنے فیصلے کریں۔ ذیلی تنظیموں میں بھی ایسے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔