سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 97

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 77 لڑکیوں کی شادی میں تاخیر نہ کریں بعض لوگ ایسے ہیں جو بیٹیوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں۔ بعض بیٹوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں اور جو بیٹیوں کی کمائی کھانے والے ہیں وہ صرف اس لئے کہ گھر کے جو لڑکے ہیں وہ نکے ہیں، کوئی کام نہیں کر رہے پڑھے لکھے نہیں اس لئے گھر بیٹیوں کی کمائی پر چل رہا ہے اور اگر شادی کر بھی دی تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ داماد، گھر داماد بن کر رہے ، گھر میں ہی موجود رہے جو اکثر نا ممکن ہوتا ہے۔ جس سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے شادی کرنے کے بعد اگر میاں بیوی علیحدہ رہنا چاہتے ہیں اور ان کو توفیق ہے اور والدین عمر کے اس آخری حصے میں نہیں پہنچے ہوتے جہاں ان کو کسی کی مدد کی ضرورت ہو اور کوئی بچہ ان کے پاس نہ ہو ، پھر تو ایک اور بات ہے قربانی کرنی پڑتی ہے۔ وہ بھی لڑکوں کا کام ہے۔ اگر کسی کے لڑکا نہ ہو تو پھر لڑکی کی مجبوری ہے۔ لیکن عموماً لڑ کی بیاہ کر جب دوسرے گھر میں بھیج دی تو اس کو اپنا گھر بسانے دینا چاہیے۔ اور اس طرف جماعتی نظام کے ساتھ ہماری تینوں ذیلی تنظیموں لجنہ ، خدام ، انصار، ان کو بھی توجہ دینی چاہیے۔ ان کو بھی اپنے طور پر تربیت کے تحت سمجھاتے رہنا چاہیے۔ انصار والدین کو سمجھائیں، لجنہ والدین کو، لڑکیوں کو اور خدام لڑکوں کو سمجھائیں۔“ (خطبہ جمعہ فرموده 24 دسمبر 2004ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 933-934)