سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 93
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 73 تعالیٰ اور اُس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو، بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کیلئے بلاتا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔ تم یقینا سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔ میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں، ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقع دیتا ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں کہ : دو تمہیں معلوم نہیں کہ اس وقت رحمت الہی اس دین کی تائید میں جوش میں ہے اور اس کے فرشتے دلوں پر نازل ہو رہے ہیں۔ ہر ایک عقل اور فہم کی بات جو تمہارے دل میں ہے وہ تمہاری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔ آسمان سے عجیب سلسلہ انوار جاری اور نازل ہو رہا ہے۔ پس میں بار بار کہتا ہوں کہ خدمت میں جان توڑ کر کوشش کرو مگر دل میں مت لاؤ کہ ہم نے کچھ کیا ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے (یعنی دل میں اگر لاؤ گے) ہلاک ہو جاؤ گے ۔ “ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 613-614) اللہ کرے کہ ہم حقیقی معنوں میں انصار اللہ بھی ہوں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توقعات پر پورا اترنے والے ہوں اور ان تمام دعاؤں کے وارث ہوں جو آپ پر نے اپنی جماعت کے نیک لوگوں کیلئے کی ہیں۔ اللہ توفیق دے۔“ اختتامی خطاب 26 ستمبر 2004ء سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ، الفضل انٹر نیشنل 31 دسمبر 2004ء)