سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 92
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 72 بھی غلبہ عطا کروں گا اسی طرح جیسے پہلے اسلام کو غلبہ عطا ہوا تھا۔ کہیں کوئی کم عقل یہ نہ سمجھ لے کہ شاید میری کسی کوشش کی وجہ سے یا میرے کسی کام کی وجہ سے یا میرے کسی کارنامے کی وجہ سے، میری کسی قربانی کی وجہ سے غلبہ عطا ہو رہا ہے یا جماعت میں ترقی ہو رہی ہے۔ اس بارہ میں اور بھی بہت سارے الہامات ہیں نصرت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کے۔ تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہمیں اللہ تعالیٰ نے انصار بنا کر برکتیں سمیٹنے کا موقع دیا ہے۔ پس ان برکتوں کو اگر جاری رکھنا ہے، اپنی نسلوں کی اصلاح کی خواہش اگر آپ کو ہے اور تمنا ہے، تو عملی نمونے قائم کرنے ہوں گے۔ گھروں میں بھی، ماحول میں بھی ، معاشرہ میں بھی۔ عبادتوں کے بھی عملی نمونے ، اعلیٰ اخلاق کے بھی عملی نمونے اور قربانی کے معیار کے بھی نمونے قائم کرنے ہوں گے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے ، جیسا کہ میں نے کہا، کہ ہمیں انصار اللہ بنا کر اس ثواب کا مستحق بنا رہا ہے۔ ہمیں ان ترقیات میں ہماری حقیر سی کوششوں کو قبول فرماتے ہوئے شامل فرمارہا ہے جو جماعت کے لئے اس نے مقدر کی ہوئی ہیں۔ جس کا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب انصار کو حقیقی معنوں میں انصار اللہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور خدا کرے کہ یہ غلبہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ ہمارے اعمال کی کمزوریاں کہیں ہمیں ان نظاروں کے دیکھنے سے ، جس کے خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح سے وعدے کئے دو ہیں، محروم نہ کر دیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ” دنیا جائے گزشتنی و گزاشتنی ہے اور جب انسان ایک ضروری وقت میں ایک نیک کام کے بجالانے میں پوری کوشش نہیں کرتا تو پھر وہ گیا ہو اوقت ہاتھ نہیں آتا۔“ تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے پھر آپ نے فرمایا کہ : وو یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوششوں سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا