سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 90
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 70 گے۔ اللہ تعالیٰ تو اس طرح قبول نہیں کرتا وہ تو یہی کہے گا کہ پہلے اپنی حالت درست کرو، اپنے اعمال درست کرو، انسانی حقوق ادا کرو، پھر میرے دین کے مدد گار کہلا سکتے ہو۔ کیا نَحْنُ انْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے سے پہلے غور بھی کیا ہے کہ یہ کتنا گہرا اور وسیع نعرہ ہے پس ہر ایک کو ہم میں سے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا نحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے سے پہلے غور بھی کیا ہے کہ یہ کتنا گہرا اور وسیع نعرہ ہے۔ کیا کیا قربانیاں دینی پڑیں گی اس کے لئے اور قربانیاں ہیں کیا، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کوئی جنگ ، توپ، گولہ نہیں ہے، کسی گولے کے آگے کھڑا ہونا نہیں ہے، کسی توپ کے منہ کے سامنے کھڑے ہونا نہیں ہے، تیروں کی بوچھاڑ کے آگے کھڑے ہونا نہیں ہے۔ صحابہ کرام، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے ان کی طرح گردنیں کٹوانا نہیں ہے۔ ہاں یہ قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کبھی کبھارا گاد کالے لیتا ہے۔ نمونے قائم رکھنے کے لئے اس طرح کرتا ہے۔ لیکن قربانی جو اس زمانے میں کرنی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں۔ اپنے معاشرہ کے حقوق ادا کرنے ہیں۔ اپنے مالوں کی قربانیاں دینی ہیں۔ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں پس انصار اللہ کا فرض بنتا ہے اور میں بار بار کہتا ہوں کہ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں، اپنے لئے، اپنی اولادوں کیلئے ، اپنے معاشرہ کیلئے، دکھی انسانیت کیلئے ، غلبہ اسلام کیلئے ایک تڑپ سے دعا مانگیں۔ آخرت کی فکر اپنے دلوں میں پیدا کریں جب آخرت کی فکر زیادہ ہو گی تو معاشرہ کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ زیادہ ہو گی۔ قرآن کریم کے پڑھنے، پڑھانے کی طرف بھی توجہ کریں۔ اس بارہ میں انصار اللہ نے پروگرام بھی بنالیا ہے اور میر اخطبہ بھی سن لیا ہے۔ قربانی کرتے ہوئے ہر ایک کا حق ادا کریں، اس کا حق اس کو کو دینے دینے کی کی کو کوشش شش کریں۔ کریں۔ دوسروں دوسروں کی کی برائیوں پر نظر رکھنے کی بجائے اپنی برائیوں کو دیکھیں تو پھر اصلاح بھی ہو گی اور اصلاح کی طرف توجہ بھی پیدا ہو گی۔ پھر مالی قربانیوں کی طرف توجہ کریں، اپنے عہدوں کو پورا کریں۔ آپ نے