سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 89
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 69 بنتے ہوئے اس کام میں میرے پیاروں کا ہاتھ بٹاؤ۔ جو تعلیم اس نے دی ہے اس پر عمل کرو اور اپنے نیک نمونے قائم کرو تاکہ تمہیں دنیا اور آخرت کے انعاموں کا وارث بنایا جائے۔ ورنہ خد اتعالیٰ نے جو وعدے اپنے پیاروں سے کیے ہوتے ہیں ان کی وجہ سے ان کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اگر فلاں شخص نے میری مدد نہ کی تو غلبہ کس طرح ہو گا۔ یا اگر فلاں حکومت نے مخالفت کی تو میرے کام کیسے آگے بڑھیں گے، میری جماعت کس طرح پھیلے گی۔ اگر چند لوگ وعدہ کر کے بھول بھی جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی مدد کے لئے اور لوگ لے آتا ہے اور جماعت پیدا کر دیتا ہے۔ ظالم حکومتوں سے بھی خود نپٹ لیتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ وعدے کئے ہوئے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی اس قدرت کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے اور تقریباً ہر احمد ی جس کا جماعت کے نظام سے پختہ تعلق ہے اس کو اس کا تجربہ ہے۔ بہت سارے مواقع پر یہ اظہار ہوتے رہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہا ما بتایا تھا کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ کہ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے۔ وہ ضرور بضرور اپنے وعدوں کے مطابق مدد گار بھیجتا رہے گا، دین کے خادم بھیجتا رہے گا، دین کی نصرت کرنے والے بھیجتا رہے گا۔ اور آج سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے اس وعدہ کو پورا فرمارہا ہے اور آئندہ بھی فرمائے گا اور فرماتا چلا جائے گا۔ انشاء اللہ۔ لیکن ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے اور اپنے عملوں کو درست کرتے ہوئے خدا سے یہ دعا مانگنی چاہیے کہ ہمارا بھی ان رجال میں شمار ہو جن کو خدا تعالیٰ قبول کرتے ہوئے مسیح موعود کے مددگاروں میں شامل کرے گا۔ ورنہ اگر ہمارے عمل اس قابل نہیں، ہماری عبادتیں سوز و گداز سے بھری ہوئی نہیں، ہم اللہ کی نظر میں مقبول نہیں تو لاکھ ہم نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ کہتے رہیں اس اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور دوسرے لوگ آکر یہ مقام لے جائیں