سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 87
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 67 بھی اپنے روٹیوں کو بدلنے کی کوشش نہ کی، اگر اب بھی ہم نے اپنے گھر کے راعی بننے کا حق ادانہ کیا، اگر اب بھی ہم نے ان کی نگرانی اور حقوق کی ادائیگی میں کو تاہی کی تو مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور جب حاضر ہوں گے تو خدا تعالیٰ پوچھے گا نہیں کہ تم نے دعویٰ تو یہ کیا تھا کہ نحن انصار الله ، ہم اللہ کے انصار ہیں۔ کیا اللہ کے انصار ایسے ہوتے ہیں۔ تم اللہ تعالیٰ کے کاموں میں مددگار بننے کی بجائے اپنی اولادوں کو بھی اللہ تعالیٰ سے دور ہٹانے والے بن رہے ہو۔ جب تمہارے اپنے گھروں میں تربیت کی طرف پوری توجہ نہیں بلکہ تمہارے نمونہ کی وجہ سے تمہاری اولادوں میں نمازوں کی عادت نہیں پڑی ، تمہاری اولادوں میں قرآن کریم پڑھنے کی عادت نہیں پڑی، تمہاری اولادوں میں دین کی غیرت نہیں ابھری، ایسی غیرت کہ وہ نوجوانی میں بھی اپنی ذاتی اناؤں اور ذاتی خواہشات کو قربان کرنے والے ہوں۔ اگر تمہاری بیوی ، تمہاری بہو ، تمہارے حسن سلوک اور عبادت گزاری کی گواہی نہیں دیتیں تو صرف مختلف مواقع پر یہ اعلان کر دینا کہ نحن انصار الله ، اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ کی مدد کیا ہے۔ آج کل یہ کیا طریقہ ہے جس سے ہم اللہ کی مدد کر سکتے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ کی مدد گولے چلانا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کی مدد کیلئے توپوں اور بندوقوں سے جنگ کرنا ہے؟ نہیں، بلکہ آج انصار اللہ ، اللہ کے مدد گاروں کا یہ کام ہے کہ وہ اپنی عبادتوں کے بھی اعلیٰ معیار قائم کریں اور حسن سلوک کے بھی اعلیٰ معیار قائم کریں۔ ان کے گھروں سے ان کے ان اعلیٰ معیاروں کی خوشبوئیں اٹھتی ہوں، ان کے ماحول سے ان کے ان اعلیٰ معیاروں کی خوشبوئیں اٹھتی ہوں تبھی وہ پورے معاشرے میں اللہ کی مدد سے ان اعلیٰ معیاروں کی خوشبوئیں پھیلا سکتے ہیں۔ اللہ کو تو کسی بندے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ایک اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بندوں کو دے رہا ہے کہ تم میری تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اگر اس دنیا میں زندگی گزارو گے اور تم میری تعلیم کو دنیا میں پھیلاؤ گے تو اس طرح تم میرے دین کی مدد کر رہے ہو گے۔ اگر خاموشی سے بھی، زبان سے کچھ کہے بغیر بھی تمہارے عملی نمونہ سے کسی کی اصلاح ہوتی ہے