سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 86
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 66 انصار کے گھر کا جو ماحول ہے، اس میں اگر اس کا رویہ اپنے گھر والوں سے ٹھیک نہیں تو وہ بعض دفعہ ٹھوکر کا باعث بن سکتا ہے۔ اور پھر آپ سے جب پرے ہٹیں گے تو پھر دین سے بھی پرے ہٹتے چلے جائیں گے۔ نَحْنُ انْصَارُ الله کے حوالہ سے انصار اللہ کی ذمہ داریاں اگر بچوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ ہمارا باپ یا ہمارا دادا یا ہمارا نانا دین کے بڑے خدمت گاروں میں شمار ہوتا ہے لیکن گھر کے اندر وہ اعلیٰ اخلاق جو ایک دیندار کے اندر ہونے چاہیں ان کا اظہار نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی عبادت کے جو نظارے ان بزرگوں میں نظر آنے چاہئیں وہ نظر نہیں آتے، تلاوتِ قرآن کریم کی طرف توجہ جس طرح ہونی چاہیے وہ توجہ نہیں ہوتی۔ پھر بچے یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہماری ماں کے ساتھ جو حسن سلوک اس گھر میں ہونا چاہیے وہ نہیں ہوتا تو باہر جا کر جس دین کی خدمت کا ایسا شخص نعرہ لگاتا ہے بچے کے ذہن میں یہی رہے گا کہ وہ سب ڈھکو سلا ہے۔ تو پھر جیسا کہ میں نے کہا ایسے بچے دین سے بھی ڈور ہو جاتے ہیں۔ اور معاشرے میں اس ماحول میں شیطان تو پہلے ہی اس تاک میں بیٹھا ہوا ہے کہ کب کوئی ایسی ذہنی کیفیت والا نظر آئے اور کب میں اس کو اپنے جال میں پھنساؤں۔ پھر ایسے بگڑتے ہوئے بچے جب شیطان اپنے جالوں میں ان کو پھنسا لیتا ہے تو بعض اوقات خدا کی ذات کے بھی انکاری ہو جاتے ، ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی یقین نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے خدا کے نام پر اپنے باپوں کو اپنے بزرگوں کو دوہرا معیار قائم کرتے دیکھا ہوتا ہے، دو عملی کرتے ہوئے دیکھا ہوتا ہے۔ جب ان کے بچوں کے ذہن میں شیطان یہ بات ڈال دے کہ اگر خدا ہوتا تو تمہارا باپ جو یہ دو عملیاں کر رہا ہے اس کو پکڑ نہ لیتا۔ تو دیکھیں اس کے بڑے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں اگر انسان سوچے تو خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ اسلئے ہر احمدی کو اور خاص طور پر انصار اللہ کو جو عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں اب صحت مزید کمزور ہوئی ہے، قومی جو ہیں مزید کمزور ہونے ہیں اور کچھ ایسی عمر کے بھی ہیں، پتہ تو نہ جو ان کا ہے نہ بچے کا، لیکن کسی وقت بھی خدا کی طرف سے بلاوا آسکتا ہے۔ تو اگر ہم نے اب ہیں،