سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 75
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول دو 55 آسمان پر وہی عزت پائے گا جو قرآن کو عزت دے گا ایک احمدی کو خاص طور پر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس نے قرآن کریم پڑھنا ہے، سمجھنا ہے، غور کرنا ہے اور جہاں سمجھ نہ آئے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وضاحتوں سے یا پھر انہیں اصولوں پر چلتے ہوئے اور مزید وضاحت کرتے ہوئے خلفاء نے جو وضاحتیں کی ہیں ان کو ان کے مطابق سمجھنا چاہیے۔ اور پھر اس پر عمل کرنا ہے تب ہی ان لوگوں میں شمار ہو سکیں گے جن کے لئے یہ کتاب ہدایت کا باعث ہے۔ ورنہ تو احمدی کا دعویٰ بھی غیروں کے دعوے کی طرح ہی ہو گا کہ ہم قرآن کو عزت دیتے ہیں۔ اس لئے ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے کہ یہ صرف دعوی تو نہیں ؟ اور دیکھے کہ حقیقت میں وہ قرآن کو عزت دیتا ہے؟ کیونکہ اب آسمان پر وہی عزت پائے گا جو قرآن کو عزت دے گا اور قرآن کو عزت دینا یہی ہے کہ اس کے سب حکموں پر عمل کیا جائے۔ قرآن کی عزت یہ نہیں ہے کہ جس طرح بعض لوگ شیلفوں میں اپنے گھروں میں خوبصورت کپڑوں میں لپیٹ کر قرآن کریم رکھ لیتے ہیں اور صبح اٹھ کر ماتھے سے لگا کر پیار کر لیا اور کافی ہو گیا اور جو برکتیں حاصل ہوئی تھیں ہو گئیں۔ یہ تو خدا کی کتاب سے مذاق کرنے والی بات ہے۔ دنیا کے کاموں کے لئے تو وقت ہوتا ہے لیکن سمجھنا تو ایک طرف رہا، اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ ایک دور کوع تلاوت ہی کر سکیں“۔ پس ہر احمد ی کو اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ وہ خود بھی اور اس کے بیوی بچے بھی قرآن کریم پڑھنے اور اس کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دیں۔ پھر ترجمہ پڑھیں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تفسیر پڑھیں۔ یہ تفسیر بھی تفسیر کی صورت میں تو نہیں لیکن بہر حال ایک کام ہوا ہوا ہے کہ مختلف کتب اور خطابات سے ، ملفوظات سے حوالے اکٹھے کر کے ایک جگہ کر دیئے گئے ہیں اور یہ بہت بڑا علم کا خزانہ ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کو اس طرح نہیں پڑھتے تو فکر کرنی چاہیے اور ہر ایک کو اپنے بارے میں سوچنا چاہیے کہ کیا وہ احمدی کہلانے کے بعد ان باتوں پر عمل نہ کر کے احمدیت سے دور تو نہیں جا رہا۔ وو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” یہ سچ ہے کہ اکثر مسلمانوں نے