سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 58

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 38 پر حکمت کلام کا بہترین طریق یہ ہے کہ دوسروں میں ایسی روح پیدا کر دی جائے کہ جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو سننے والے کہیں کہ یہی ہماری اپنی خواہش تھی۔ یہی وقت ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کا قدم ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔“ (مشعل راہ جلد اول صفحہ 15) اصل کام نظام جماعت کا احترام قائم کرنا ہے ۔۔۔ اصل میں تو امراء، صدران، عہدیداران یا کارکنان جو بھی ہیں ان کا اصل کام تو یہ ہے کہ اپنے اندر بھی اور لوگوں میں بھی نظام جماعت کا احترام پیدا کیا جائے۔ اور اسی طرح جماعت کے تمام افراد کا بھی یہی کام ہے کہ اپنے اندر بھی اور اپنی نسلوں میں بھی جماعت کا احترام پیدا کریں۔ نظام جماعت کا احترام پیدا کریں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ جو نصائح میں عہدیداران کے لئے کرتا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ صرف عہدیداران کے لئے ہیں بلکہ تمام افراد جماعت مخاطب ہوتے ہیں اور ان کو بھی یہ نصائح ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کل کو ایک عہدیدار کے ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانے کی وجہ سے، یا بیمار ہو جانے کی وجہ سے، یا بڑھاپے کی وجہ سے ، یا فوت ہو جانے کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص اس عہدے کے لئے مقرر کر دیا جائے۔ پھر انتخابات بھی ہوتے ہیں، عہدے بدلتے بھی رہتے ہیں۔ تو ہر ایک کو اپنے ذہن میں یہ سوچ رکھنی چاہیے کہ جب بھی وہ عہدیدار بنیں گے وہ ایک خادم کے طور پر خدمت کرنے کے لئے بنیں گے۔ بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ عہدیدار بدلے بھی جاتے ہیں، خلیفہ وقت خود بھی اپنی مرضی سے بعض عہدوں کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ تو بہر حال نئے آنے والے شامل ہوتے ہیں اور نئے آنے والوں کی بھی یہی سوچ ہونی چاہیے اور اگر بنیادی ٹریننگ ہو گی تو اس سوچ کے ساتھ جو عہدہ ملے گا تو ان کو اور تو کام کرنے کی سہولت بھی رہے گی۔ تو جیسا کہ میں نے کہا ہر شخص کو اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے کہ اس نے نظام جماعت کا احترام کرنا ہے اور دوسروں میں بھی یہ احترام پیدا کرنا ہے۔ تو خلیفہ وقت کی تسلی بھی ہو گی کہ ہر جگہ کام کرنے والے کارکنان ، نظام کو سمجھنے والے کارکنان، کامل اطاعت کرنے والے