سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 57
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 37 کرو۔ جب اس طریق سے ہر عہدیدار اپنے اپنے شعبہ کی ذمہ داریاں ادا کرے گا تو لوگوں کے دلوں میں آپ کے لئے مزید عزت و احترام پیدا ہو گا اور جیسا کہ میں نے کہا جماعت کا عمومی معیار بھی بلند ہو گا۔ جب بھی تم کوئی حکم دو، محبت پیار اور سمجھا کر دو وو اس بارہ میں حضرت مصلح موعود کا ایک اقتباس ہے وہ میں سناتا ہوں۔ فرمایا: دنیا میں بہترین مصلح وہی سمجھا جاتا ہے جو تربیت کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پیدا کر دیتا ہے کہ اس کا حکم ماننالوگوں کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دل پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم باقی الہامی کتب پر فضیلت رکھتا ہے۔ اور الہامی کتابیں تو یہ کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو۔ مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ اس لئے کرو، اس لئے کرو۔ گویا وہ خالی حکم نہیں دیتا بلکہ اس حکم پر عمل کرنے کی انسانی قلوب میں رغبت بھی پیدا کر دیتا ہے۔ تو سمجھانا اور سمجھا کر قوم کے افراد کو ترقی کے میدان میں اپنے ساتھ لئے جانا، یہ کامیابی کا ایک اہم گر ہے۔ اور قرآن کریم نے اس پر خاص زور دیا ہے۔ چنانچہ سورہ لقمان میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے جو نصیحتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ واقصد في مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ (لقمان: 20) کہ تمہارے ساتھ چونکہ کمزور لوگ بھی ہوں گے اس لئے ایسی طرز پر چلنا کہ کمزور رہ نہ جائیں۔ بے شک تم آگے بڑھنے کی کوشش کرو مگر اتنے تیز بھی نہ ہو جاؤ کہ کمزور طبائع بالکل رہ جائیں۔ دوسرے جب بھی تم کوئی حکم دو، محبت پیار اور سمجھا کر دو۔ اس طرح نہ کہو کہ ”ہم یوں کہتے ہیں“۔ (تو قرآن شریف کی تعلیم تو یہ ہے کہ محبت اور پیار سے حکم دو، نہ کہ آرڈر ہو۔) بلکہ ایسے رنگ میں بات پیش کرو کہ لوگ اسے سمجھ سکیں۔ اور وہ کہیں کہ اس کو تسلیم کرنے میں تو ہمارا اپنا فائدہ ہے۔ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ کے یہی معنی ہیں۔ گویا میانہ روی اور پر حکمت کلام یہ دو چیزیں مل کر قوم میں ترقی کی روح پیدا کیا کرتی ہیں اور