سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 491

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 471 بل آیا اُس کو ضرور پاس کر دینا ہے۔ آڈٹ کے نظام کو فعال کرے اور اس طرح فعال کرے کہ آڈیٹر کو آزادی ہو کہ جس طرح وہ کام کرنا چاہتا ہے ، اپنی مرضی سے کرے۔ اُس کو پورے اختیار دیئے جائیں۔ خرچ کے بارے میں میں بتا دوں کہ ایم ٹی اے کا ایک بہت بڑا خرچ ہے اور ایم ٹی اے کے لئے مد تربیت کے لحاظ سے علیحدہ تحریک بھی کی جاتی ہے۔ گو کہ اب اخراجات اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ صرف اتنی رقم سے تو ایم ٹی اے کے خرچ نہیں چل سکتے۔ تو جو جماعت کا باقی مجموعی بجٹ ہے اُس میں سے بھی رقم خرچ کی جاتی ہے کیونکہ ساری دنیا میں ایم ٹی اے کے لئے ہمارے چار پانچ سیٹلائٹ کام کر رہے ہیں ، تو اس طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو توجہ کرنی چاہیے۔ اگر جلسے کے دوسرے دن کی تقریر کو غور سے سنیں، جو یہاں یو کے (۔U۔K) میں میں کرتا ہوں تو ہر ایک کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے پیسے میں کتنی برکت ڈالی ہوئی ہے اور کس طرح کام کی وسعت ہو رہی ہے اور کس طرح کام کا پھیلاؤ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر سال اس پیسے کو کتنے پھل لگا رہا ہے اور کس طرح لگا رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سب اخراجات احباب جماعت کی مالی قربانیوں سے ہوتے ہیں۔“ 66 ( خطبه جمعه فرموده 16 اگست 2013ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 30 اگست 2013ء)