سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 488 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 488

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 468 ہر احمدی کو اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم چندہ کیوں دیتے ہیں ؟ پھر اگلی بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں ، وہ افرادِ جماعت پر چندوں کی اہمیت واضح کرنا ہے۔ یاد رکھیں اور یہ بات عموماً میں سیکر ٹریانِ مال سے کہا بھی کرتا ہوں کہ لوگوں کو یہ بتایا کریں کہ چندہ کوئی ٹیکس نہیں ہے بلکہ ان فرائض میں داخل ہے جن کی ادائیگی کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں متعدد جگہ حکم فرمایا ہے۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لَّا نُفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ إِن تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يَضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمُ (التغابن : 17-18 ) پس اللہ کا تقوی اختیار کرو جس حد تک تمہیں توفیق ہے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور جو نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں تو یہی ہیں وہ لوگ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ اگر تم اللہ کو قرضہ حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لئے بڑھا دے گا۔ اِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يَضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وہ اُسے تمہارے لئے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت قدر شناس اور بردبار ہے۔ پس ان آیات سے واضح ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ایک مومن کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور فرمایا کہ تمہارا خدا کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کو قرض دیا ہے اور اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو بندے کو اُس کی قربانی کے بدلے میں کئی گنا بڑھا کر لوٹاتی ہے۔ اور لوگ ایسے متعدد واقعات ا مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی راہ میں چندہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں کئی گنا بڑھا کر لوٹا دیا۔ اس بارے میں کئی دفعہ میں مختلف واقعات بھی بیان کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اور بے نیاز ہے ، اُس کو ہمارے پیسے کی ضرورت نہیں۔ اصل میں تو ہمیں پاک کرنے کے لئے ہمارے اطاعت کے معیار دیکھنے کے لئے ، ہمیں تقویٰ کی راہوں کی تلاش کرتا دیکھنے کے لئے ، ہمارے مال