سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 487

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 467 اور باقاعدگی سے سنتے ہیں، بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ دو تین دفعہ سنتے ہیں۔ لیکن ایک ایسی تعداد ہے جو نہیں سنتی۔ یہاں یو کے (۔U۔K) میں ہی ایسے لوگ ہیں جو خطبات نہیں سنتے اور نہ ہی دوسرے پروگرام دیکھتے ہیں بلکہ وہ بعض پروگراموں میں شامل بھی نہیں ہوتے۔ ایک جماعت میں کافی تعداد میں لوگوں نے خلاف تعلیم سلسلہ بعض حرکتیں کیں جس کی وجہ سے مجبوراً اُن پر کچھ پابندیاں عائد کی گئیں۔ جب مزید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اُن میں سے اکثریت ایسی ہے جو خطبات نہیں سنتے ، یا جن کا جماعت میں زیادہ تر actively آنا جانا نہیں ہے ،نہ جماعتی پروگراموں میں شامل ہوتے ہیں لیکن جماعت کے ساتھ تعلق کیونکہ اُن کے خون میں تھا اس لئے جب اُن پر پابندیاں لگیں ، اُن کو تھوڑی سی سزا دی گئی تو پریشان بھی ہو گئے اور انتہائی فکر اور درد سے مجھے معافی کے خط بھی لکھنے لگ گئے۔ بعض مجھے ملے بھی تو اُس وقت بھی روتے تھے۔ اگر وہ صرف دنیا دار ہی ہوتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔ پس ایسے بھی ہیں جو دنیا کے کاروباروں کی وجہ سے لاپر واہ ہو جاتے ہیں اور جب اُنہیں توجہ دلائی جاتی ہے تو پھر انہیں شرمندگی کا احساس بھی ہوتا ہے اور توبہ و استغفار بھی کرتے ہیں اور آئندہ سے جماعت سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ خلافت سے ہر فرد کا ذاتی تعلق پیدا کروانے کی کوشش کریں پس یہ یاد دہانی کروانا اور نگرانی بھی رکھنا یہ جو جماعتی نظام ہے، سیکرٹریان، مبلغین اور ذیلی تنظیمیں ہیں، طیمیں ہیں، ان سب کا کام ہے کہ خلافت سے ہر فرد کا ذاتی تعلق پیدا کروانے کی کوشش کریں۔ دلوں میں خلافت سے تعلق اور وفا کو جو پہلے ہی ہے اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ جب کو تو اُن کو سمجھایا جائے تو یہ لوگ مزید نکھر کے سامنے آتے ہیں۔ اگر کوئی گرد پڑ بھی گئی ہو تو وہ جھڑ جاتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی تعزیر کی جاتی ہے تو اُس وقت اس وفا کا شدت سے اظہار ہوتا ہے۔ اگر تربیت کا شعبہ مستقل خلیفہ وقت سے رابطے کی تلقین کرتا رہے اور خطبات اور جلسوں اور سارے پروگراموں کو دیکھنے کی طرف توجہ دلاتے رہیں تو جہاں خلافت سے مزید تعلق مضبوط ہو گا، وہاں تربیت کے بھی بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔