سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 413
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 393 پر تنظیم کے عہدیدار مسجد میں حاضر ہو نا شروع ہو جائیں تو مسجدوں کی ہر وو رو نقیں بڑھ جائیں گی ۔۔۔ عہدیدار خاص طور پر نمازوں کی باجماعت ادائیگی میں اگر سستی نہ دکھائیں کیونکہ ان کی طرف سے بھی بہت سستی ہوتی ہے، اگر وہی اپنی حاضری درست کر لیں اور ہر سطح کے اور ہر تنظیم کے عہدیدار مسجد میں حاضر ہونا شروع ہو جائیں تو مسجدوں کی رونقیں بڑھ جائیں گی اور بچوں اور نوجوانوں پر بھی اس کا اثر ہو گا، اُن کو بھی توجہ پیدا ہو گی۔ ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ کسی کارتبہ کسی عہدے کی وجہ سے نہیں ہے۔ دنیا کے سامنے تو بیشک کوئی عہدیدار ہو گا، اور اُس کار تنبہ بھی ہو گا لیکن اصل چیز خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا ہے اور وہ اس ذریعے سے حاصل ہو گا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز معراج ہے۔ اس معراج کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ پس پہلے عہدیدار اپنے جائزے لیں اور پھر اپنے زیر اثر بچوں، نوجوانوں اور لوگوں کو اس طرف توجہ دلائیں۔ ہماری کامیابی اُسی وقت حقیقت کا روپ دھارے گی جب ہر طرف سے آوازیں آئیں گی کہ نماز کے قیام کی کوشش کرو۔ ورنہ صرف یہ عقیدہ رکھنے سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہو گئے ، یا قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے ، یا تمام انبیاء معصوم ہیں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہی مسیح و مہدی ہیں جن کے آنے کی پیشگوئی تھی، تو اس سے ہماری کامیابیاں نہیں ہیں۔ ہماری کامیابیاں اپنی عملی حالتوں کو اُس تعلیم کے مطابق ڈھالنے میں ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دی۔ جس میں سب سے زیادہ اہم نماز کے ذریعے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے۔ ورنہ ہمارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ شرک نہیں کروں گا۔ شرک تو کر لیا اگر اپنی نمازوں کی حفاظت نہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے تو حکم دیا ہے کہ نمازیں پڑھو، نمازوں کے لئے آؤ۔ اگر نمازوں کی حفاظت نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نماز کی جگہ کوئی اور متبادل چیز تھی جس کو زیادہ اہمیت دی گئی تو یہ بھی شرک خفی ہے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مارچ 2012ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 20 اپریل 2012ء)