سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 374

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 354 یہ شرائط بیعت کا خلاصہ جو میں نے بیان کیا ہے ، جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں یہ ایک احمدی کا کم از کم معیار ہے اور انصار اللہ کو تو ان باتوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طرح ہماری عورتیں ہیں وہ گھر کی نگرانی کی حیثیت سے اسی طرح اپنے بچوں کی تربیت کی ذمہ دار ہیں جیسے مر د بلکہ مردوں سے بھی زیادہ۔ کیونکہ بچے کی ابتدائی عمر جو ہے ماں کے قرب میں اور اس کی گود میں گزرتی ہے۔ سکول جانے والا بچہ ہے۔ وہ بھی گھر میں آکر ماں کے پاس ہی اکثر وقت رہتا ہے۔ تو ماؤں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر ماؤں کی اپنی دینی تربیت ہے۔ ان کو خود دین کا علم ہے تو بچے ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں اکا دُکا استثناء کے علاوہ عموماً بچوں کو دین سے گہر الگاؤ ہوتا ہے۔ ایسی ہی عورتوں کے متعلق ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض عورتیں بسبب اپنی قوتِ ایمانی کے مردوں سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔ فضیلت کے متعلق مردوں کا ٹھیکہ نہیں۔ جس میں ایمان زیادہ ہو وہ بڑھ گیا خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 268 مطبوعہ ربوہ ) اگلی نسل کی تربیت میں بھر پور کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔ تو ہماری تو ہر عورت کو یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مرد اور عورت میں ایک دوڑ ہو ۔ دونوں طرف سے نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جانے کی ایک کوشش ہو۔ جب یہ صورت پیدا ہو جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھیں گے کہ نئی نسل کس طرح خدا تعالیٰ کے قریب ہوتی چلی جائے گی۔ یہ شرائط بیعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے بیان فرمائی ہیں، ان میں یہ تخصیص کوئی نہیں ہے کہ یہ مردوں کے لئے ہیں اور عورتوں کے لئے نہیں۔ بلکہ ہر دو اور ہر طبقے کے لئے ہیں۔ پس جو بھی ان نیکیوں پر قدم مارنے والا ہو گا وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والا بن کر اپنی دنیا و عاقبت سنوار لے گا اور اپنے بچوں اور اپنی نسلوں کی حفاظت اور تقویٰ پر چلنے کے سامان کرلے گا۔ پس عورتوں کو بھی ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بچوں کی تربیت میں مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے سے تعاون